ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 9

ملفوظات حضرت مسیح موعود اسی غم میں رکھی تھی ۔ ۹ جلد سوم مختصر یہ کہ دعا کا یہ اصول ہے جو اس کو نہیں جانتا وہ خطرناک حالت میں پڑتا ہے اور جو اس اصول کو سمجھ لیتا ہے اس کا انجام اچھا اور مبارک ہوتا ہے۔ اور جو لوگ حیوانات کی طرح متقی کے لیے مصائب ترقی کا باعث ہوتے ہیں زندگی بسر کرتے ہیں اللہ تعالٰی جب ان کو پکڑتا بھی ہے تو پھر جان لینے ہی کے لیے پکڑتا ہے۔ مگر مومن کے حق میں اس کی یہ عادت نہیں ہے۔ اُن کی تکالیف کا انجام اچھا ہوتا ہے اور انجام کا متقی کے لیے ہی ہے جیسے فرمایا وَ الْآخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِينَ (الزخرف : ٣٦) اُن کو جو تکالیف اور مصائب آتے ہیں وہ بھی ان کی ترقیوں کا باعث بنتے ہیں تا کہ ان کو تجربہ ب وہ بنتے ہو جاوے اللہ تعالیٰ پھر ان کے دن پھیر دیتا ہےاور یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس شخص کے شکنجہ کے دن آتے ہیں اس پر بہائی زندگی کا اثر نہیں رہتا اس پر ایک موت ضرور آجاتی ہے اور خدا شناسی کے بعد وہ لذتیں اور ذوق جو بہائی سیرت میں معلوم ہوتے تھے نہیں رہتے بلکہ ان میں تلخی اور کدورت و کراہت پیدا ہوتی ہے اور نیکیوں کی طرف توجہ کرنا ایک معمولی عادت ہو جاتی ہے پہلے جو نیکیوں کے کرنے میں طبیعت پر گرانی اور سختی ہوتی تھی وہ نہیں رہتی۔ پس یاد رکھو کہ جب تک نفسانی جوشوں سے ملی ہوئی مُرادیں ہوتی ہیں اس وقت تک خدا ان کو مصلحتنا الگ رکھتا ہے اور جب رجوع کرتا ہے تو پھر وہ حالت نہیں رہتی ۔ اس بات کو کبھی مت بھولو کہ دنیا روزے چند آخر کار با خداوند ۔ اتنا ہی کام نہیں کہ کھا پی لیا اور بہائم کی طرح زندگی بسر کر لی۔ انسان بہت بڑی ذمہ داریاں لے کر آتا ہے۔ اس لیے آخرت کی فکر کرنی چاہیے اور اس کی تیاری ضروری ہے۔ اس تیاری میں جو تکالیف آتی ہیں وہ رنج اور تکلیف کے رنگ میں نہ سمجھو بلکہ اللہ تعالیٰ ان پر بھیجتا ہے جن کو دونوں بہشتوں کا مزہ چکھانا چاہتا ہے وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتْنِ (الرَّحْمن : ۴۷)۔ مصائب آتے ہیں تا کہ ان عارضی اُمور کو جو تکلف کے رنگ میں ہوتے ہیں نکال دے۔