ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 171 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 171

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۱ جلد سوم عقل مندی سے کام لیتا ہے۔ جب بیٹا خدا ہے تو ماں تو ضرور خدا ہونی چاہیے۔ مگر اب وقت آگیا ہے که انسان پرستی کا شہتیر ٹوٹ جاوے۔ مفتی محمد صادق صاحب کو فرمایا جبکہ انہوں نے اصل تبلیغ تو گل علی اللہ سے ہوتی ہے مشروب کا ایک خط سنایا کہ اُن کو لکھ دو کہ عمر گزرتی جاتی ہے جو کرنا ہے اب کر لو۔ دن بدن قوی کمزور ہوتے جاتے ہیں۔ دس برس پہلے جو قوی تھے وہ آج کہاں ہیں؟ گذشتہ کا حساب کچھ نہیں آئندہ کا اعتبار نہیں۔ جو کچھ کرنا ہو آدمی کو موجودہ وقت کو غنیمت سمجھ کر کرنا چاہیے۔ اب اسلام کی خدمت کر لو۔ اول واقفیت پیدا کرو کہ ٹھیک اسلام کیا ہے؟ اسلام کی خدمت جو جو شخص درویشی اور قناعت سے کرتا ہے وہ ایک معجزہ اور نشان ہو جاتا ہے جو جمعیت کے ساتھ کرتا ہے اس کا مزا نہیں آتا کیونکہ تو گل علی اللہ کا پورا لطف نہیں رہتا اور جب تو گل پر کام کیا جاوے تو خدا مدد کرتا ہے اور یہ باتیں روحانیت سے پیدا ہوتی ہیں۔ جب روحانیت انسان کے اندر پیدا ہو تو وہ وضع بدل دیتا ہے۔ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح پر صحابہ کی وضع دیتا بدل دی ۔ یہ سارا کام اس کشش نے کیا جو صادق کے اندر ہوتی ہے۔ یہ خیالات باطل ہیں کہ کئی لاکھ روپیہ ہو تو کام چلے ۔ خدا تعالیٰ پر تو گل کر کے جب ایک کام شروع کیا جاوے اور اصل غرض اس کے دین کی خدمت ہو تو وہ خود مددگار ہو جاتا ہے اور سارے سامان اور اسباب بہم پہنچا دیتا ہے۔ جناب خواجہ کمال الدین صاحب کے ذکر پر فرمایا کہ خواجہ کمال الدین صاحب بڑے سعید اور مخلص ہیں اور حقیقت میں مردانگی یہی ہے کہ جب تعلق پکڑے تو آخر تک نبھاوے۔ یک در گیر و محکم گیر ۔ یہ مجلس خود اللہ تعالیٰ نے پیدا کر دی ہے۔ جس میں بیٹھ کر خدا پیا بینظیر مجلس اور تائید اسلام نظر آتا ہے۔ جو راستہ ہم صاف کرتے ہیں، مشرق مغرب میں کہیں چلے جاؤ کسی جگہ وہ بات نہیں ملے گی ۔ کوئی ہفتہ نہیں ایسا گذرتا جب ایک یا دو باتیں اسلام کی تائید میں پیدا نہ ہوتی ہوں ۔