ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 170 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 170

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۷۰ جلد سوم نہ تھی۔ لیکن اب اس نشان کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کی قدر کریں۔ ہر ایک شخص اپنے صدق ، ثبات اور قوت کو دیکھ لے۔ ہم کسی کو منع نہیں کرتے۔ اسباب پرستی ، پتھر پرستی سے بڑھ کر ہے۔ پتھروں کی پوجا اگر محرقہ ہے تو اسباب پرستی تپ دق ہے جس نے دنیا کو ہلاک کر دیا ہے۔ یادرکھو جو اسباب میں دل لگاتا ہے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ الدار والوں کی حفاظت کا قومی ذمہ خدا نے لے لیا ہے مگر ایک دار تو وہ ہے جو خس و خاشاک و خاک کا بنا ہوا درو دیوار والا گھر ہے اور ایک وہ جو ہمارے منشا کے موافق روحانی طور پر اپنی تبدیلی کرتا ہے۔ وہ بھی ہمارے دار میں ہے۔ میرے پاس ایک شیشی مشک کی ہے جس میں سے میں کھایا کرتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ برکت کا نشان جب کسی چیز کے سلسلہ کو منقطع کرنا نہیں چاہتا تو جس طرح چاہے اس کو برکت دیدے۔ میں نے گھر والوں سے کہا کہ لاؤ اس شیشی کو میں برکت دیتا ہوں چنانچہ میں نے اُس میں پھونک ماردی ۔ ڈاک کے وقت فضل الہی ایک شیشی لایا۔ میں نے سمجھا کہ کوئی دوائی ہے اور رکھ دی۔ مگر فجر کو جب اسے کھول کر دیکھا تو وہ مشک نکلا۔ میں نے اس کو بلا کر پوچھا کہ کس نے بھیجی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ کاغذ گم ہو گیا۔ اس شیشی پر بھی مرسل و فریبندہ کا نام نہیں ۔ یہ نمونہ خدا تعالیٰ نے برکت کا دیا ہے۔ میں نے گھر میں خود پھونک ماری اور دوسرے دن وہ شیشی آگئی ۔ یہ خدا کے عجیب کام ہیں جو آجکل ظاہر ہو رہے ہیں ۔ فَالْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى ذَالِكَ - ۳۰ ستمبر ۱۹۰۲ء او رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ دراصل دونوں ایک ہی رومن کیتھولک اور پراٹسٹنٹ ہیں ۔ آدم زاد کی پرستش کرنے میں کوئی ایک دوسرے سے ممتاز نہیں ہے۔ ایک بیٹے کی پرستش کرتا ہے تو دوسرا ماں کو بھی خدا بناتا ہے اور اس معاملہ میں وہ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۳ مورخه ۱۷ ستمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۵ ، ۱۶