ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 169 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 169

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۹ جلد سوم انسان کو معزز بناتی ہیں ۔ حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا۔ حقیقت میں تقویٰ ہی ایک ایسی چیز ہے کہ جس سے انسان کا اکرام ہوتا ہے۔ طاعون کے ٹیکہ کا ذکر تھا۔ اس کے متعلق طاعون کا ٹیکہ اور اسباب پرستی کی ممانعت ایک مبسوط اشتہار تقویۃ الایمان کے نام مبسوط نام سے عنقریب شائع ہوتا ہے جو چھپ رہا ہے۔ وہ الحکم کی کسی اشاعت میں انشاء اللہ کامل طور پر چھپے گا۔ اسی ذکر کے اثنا میں اور اسی کے متعلق ایک لطیف بات فرمائی کہ دیکھو! ایک زمیندار ہے اس کی زمین بارانی ہے اور ایک دوسرا ہے جس نے رات دن محنت کر کے کنوئیں سے آبپاشی کی ہے اور اپنے کھیتوں کو بھر لیا ہے۔ مگر آسمان پر یکا یک بادل ہوئے اور بارانی زمین والے تمام کھیت بھر گئے ۔ اب دونوں میں سے زیادہ شکر گزارکون ہوگا ؟ کیا وہ جس نے رات دن ایک محنت کر کے اپنے کھیت بھرے ہیں یا وہ جو آسمان کی طرف دیکھتا رہا ہے؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ جو رات کو سویا ہوا تھا اور صبح اُٹھ کر دیکھا تو کھیتوں کو لبالب پایا۔ اس طرح پر ٹیکہ کے متعلق ایک تو ہم ہیں کہ خدا تعالیٰ نے حفاظت کا وعدہ کیا ہے۔ اور ایک وہ ہیں جو اسی پر بھروسہ کئے ہوئے ہیں ۔ اسباب سے اللہ تعالیٰ نے منع تو نہیں فرمایا مگر اس قدر محو فی الاسباب نہ ہونا چاہیے کہ شرک کی حد تک پہنچ جاوے۔ اسباب سے جائز فائدہ اعتدال کی حد تک ضرور اٹھانا چاہیے مگر شرک فی الاسباب نہ ہونے پائے ۔ اور یہ شرک اسباب اسباب سے ہی پیدا ہوتا ہے۔ ہزاروں ہزار مخلوق جانتی ہے کہ جب ٹیکا کرانے والوں کو فائدہ ہوگا جیسا کہ ظاہر کیا گیا ہے تو وہ شخص کس قدر خوش ہوگا اور کتنا بڑا نشان ہوگا جو یہ کہے گا کہ اوروں کو ٹیکہ نے فائدہ کیا اور مجھ کو خدا نے ۔ وَلَنِعْمَ مَا قِيلَ - تراکشتی آورد و ما را خدا ۔ جس راہ پر ہم چلتے ہیں یہ مرحلہ دور ہے۔ ہم اسباب کو چھوڑتے نہیں لیکن اُن کو پوجتے بھی نہیں۔ خدا نے اپنے فضل سے ایک نشان دیا ہے اس کی قدر کرتے ہیں۔ اگر وہ ہم پر ظاہر نہ کرتا تو کچھ بات