ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 168 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 168

ملفوظات حضرت مسیح موعود اس کا خلاصہ یہ ہے۔ ۱۶۸ جلد سوم خدا کے ساتھ روٹھنا نہیں چاہیے اور خدا تعالیٰ کا شکوہ کرنا کہ اس نے ہماری نصرت نہیں کی سخت غلطی ہے۔ مومنوں پر ابتلا آتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیرہ برس تک کیسی تکلیفیں اٹھاتے رہے۔ طائف میں گئے تو پتھر پڑے۔ اس وقت جب کہ آپ کے بدن سے خون جاری تھا آپ نے کیسا صدق اور وفا کا نمونہ دکھایا اور کیا پاک الفاظ فرمائے کہ یا اللہ میں یہ سب تکلیفیں اس وقت تک اُٹھاتا رہوں گا جب تک تو راضی ہو۔ امتحان کا ہونا ضروری ہے۔ نبیوں اور صادقوں پر ابتلا آتے ہیں۔ حضرت مسیح کو دیکھو کہ کیسا ابتلا آیا ۔ ایلِی ايْلِی لِمَا سَبَقْتَنِی کہنا پڑا، یہویوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا دیا غرض مومن کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ اور خدا سے روٹھنا نہیں چاہیے۔ اس مضمون پر ایک لمبی تقریر حضرت اقدس نے فرمائی جس کا خلاصہ آپ ہی کے اشعار میں یہ ہے۔ ه صادق آن باشد که ایام بلا می گذارد با محبت با وفا (الهامی) گر قضا را عاشقی گردد اسیر بوسد آن زنجیر راکز آشنا ڈائری سے اقتباس (ایڈیٹر کے اپنے الفاظ میں ) مولوی غلام حسن صاحب سب رجسٹرار پشاور سے تشریف لائے تقویٰ سے اکرام ہوتا ہے عند الملاقات حضرت حجتہ اللہ نے فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ مولوی صاحب باوجود ہمارے سلسلہ میں شامل ہونے کے ہر دلعزیز ہیں۔ اس پر مولوی عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ حضور تقویٰ اور رزق حلال ایسی چیزیں ہیں کہ الحکم جلد ۶ نمبر ۳۲ مورخه ۱۰ ستمبر ۱۹۰۲ء صفحه ۱۶