ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 167 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 167

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۶۷ جلد سوم ہوں گے ان کی عمریں بڑھائی جاویں گی جو خادم نہیں ہو سکتا وہ بڑھے بیل کی مانند ہے کہ مالک جب چاہے اُسے ذبح کر ڈالے اور جو سچے دل سے خادم ہے وہ خدا کا عزیز ٹھہرتا ہے اور اس کی جان لینے میں خدا تعالیٰ کو تردد ہوتا ہے اس لیے فرمایا وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) ۲۶ اگست ۱۹۰۲ء شیخ ابو سعید محمد حسین بٹالوی کے خط کا جواب الحکم کی گذشتہ آپ حج کیوں نہیں کرتے اشاعت میں کسی قدر بسط سے شائع ہو چکا ہے لیکن اتمام حجت اشاعت میں قدر سے ہو ہے اتمام اور ایک نکتہ معرفت کے لیے اتنا اور عرض کرنا ضروری سمجھا ہے کہ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حضور جب وہ خط پڑھا گیا اور یہ اعتراض پیش کیا گیا کہ آپ کیوں حج نہیں کرتے ؟ تو فرمایا کہ میرا پہلا کام خنزیروں کا قتل اور صلیب کی شکست ہے۔ ابھی تو میں خنزیروں کو قتل کر رہا ہوں ۔ بہت سے خنزیر مر چکے ہیں اور بہت سے سخت جان ابھی باقی ہیں۔ اُن سے فرصت اور فراغت تو ہوئے۔ شیخ بٹالوی صاحب اگر انصاف سے کام لیں گے تو امید ہے یہ لطیف جواب انہیں تسلیم ہی کرنا پڑے گا ؟ کیوں شیخ صاحب ! ٹھیک ہے نا! پہلے خنزیروں کو قتل کر لیں؟ بلا تاریخ ایک دوست کو دشمنوں نے سخت ابتلا کی حالت میں خدا سے روٹھنا نہیں چاہیے تکلیف دی اور ان کی شکائتیں بھی افسران بالا دست سے کیں جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو وہاں سے تبدیل ہونا پڑا۔ انہوں نے اس کے متعلق دعا کے لیے عرض کیا کہ اس سے دشمن خوش ہوں گے یہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس کے متعلق جو فرمایا الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۵ تا ۸