ملفوظات (جلد 3) — Page 8
ملفوظات حضرت مسیح موعود جلد سوم گستاخی کرتا اور بے ادبی کی جرات کرتا ہے۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بعض لوگ بے صبری سے کام لیتے ہیں اور مداری کی طرح چاہتے ہیں کہ ایک دم میں سب کام ہو جائیں میں کہتا ہوں کہ اگر کوئی بے صبری کرے تو بھلا بے صبری سے خدا تعالیٰ کا کیا بگاڑے گا ۔ اپنا ہی نقصان کرے گا۔ بے صبری کر کے دیکھ لے وہ کہاں جائے گا ؟ میں ان باتوں کو کبھی نہیں مان سکتا اور در حقیقت یہ جھوٹے قصے اور فرضی کہانیاں ہیں کہ فلاں فقیر نے پھونک مار کر یہ بنادیا اور وہ کر دیا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت اور قرآن شریف کے خلاف ہے اس لیے ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔ ہر آمر کے فیصلہ کے لیے معیار قرآن ہے۔ دیکھو ! حضرت یعقوب علیہ السلام کا پیارا بیٹا یوسف علیہ السلام جب بھائیوں کی شرارت سے ان سے الگ ہو گیا تو آپ چالیس برس تک اس کے لیے دعائیں کرتے رہے ۔ اگر وہ جلد باز ہوتے تو کوئی نتیجہ پیدا نہ ہوتا۔ چالیس برس تک دعاؤں میں لگے رہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان رکھا ۔ آخر چالیس برس کے بعد وہ دعا ئیں کھینچ کر یوسف علیہ السلام کو لے ہی آئیں ۔ اس عرصہ دراز میں بعض ملامت کرنے والوں نے یہ بھی کہا کہ تو یوسف کو بے فائدہ یاد کرتا ہے ۔ مگر اُنہوں نے یہی کہا کہ میں خدا سے وہ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔ بے شک ان کو کچھ خبر نہ تھی مگر یہ کہا اِنِّي لَأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ (يوسف: ۹۵) پہلے تو اتنا ہی معلوم تھا کہ دعاؤں کا سلسلہ لمبا ہو گیا ہے اللہ تعالی نے اگر دعاؤں میں محروم رکھنا ہوتا تو وہ جلد جواب دے دیتا مگر اس سلسلہ کا لمبا ہونا قبولیت کی دلیل ہے کیونکہ کریم سائل کو دیر تک بٹھا کر کبھی محروم نہیں کرتا بلکہ بخیل سے بخیل بھی ایسا نہیں کرتا ، وہ بھی سائل کو اگر زیادہ دیر تک دروازہ پر بٹھائے تو آخر اس کو کچھ نہ کچھ دے ہی دیتا ہے ۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے دعاؤں کے زمانہ کی درازی پر وَابْيَضَتْ عَيْنَهُ (یوسف: ۸۵) قرآن میں خود دلالت کر رہی ہیں ۔ غرض دعاؤں کے سلسلہ کے دراز ہونے سے کبھی گھبرانا نہیں چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہر نبی کی تکمیل بھی جدا جدا پیرایوں میں کرتا ہے حضرت یعقوب کی تکمیل اللہ تعالیٰ نے