ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 153 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 153

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۳ جلد سوم پھر اسی طرح جھنڈا سنگھ نامی ایک زمیندار کے ساتھ درخت کاٹنے کا مقدمہ تحصیل میں دائر تھا۔ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے معلوم ہوا کہ ڈگری ہو جائے گی۔ جب کوئی دس بارہ دن ہوئے تو لوگوں نے جو بٹالہ سے آئے کہا کہ وہ مقدمہ خارج ہو گیا ہے اور خود اس نے بھی آکر بطور تمسخر کہا کہ مقدمہ خارج ہو گیا۔ مجھے اس خبر کے سننے سے اتناغم ہوا کہ کبھی کسی ماتم سے بھی نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ڈگری کی خبر دی تھی یہ کیا کہتے ہیں۔ وہ اسامی تھے اور ہم مالک تھے اور مالک کی اجازت کے بغیر وہ درخت کاٹنے کے مجاز نہ تھے مختلف قسم کے پندرہ یا سولہ آدمی اس مقدمہ میں تھے۔ مجھے بہت ہی غم 66 محسوس ہوا اور میں جیسے کوئی مبہوت ہو جاتا ہے سراسیمہ ہو کر سجدہ میں گر پڑا اور دعا کی تب ایک بلند آواز سے الہام ہوا ڈگری ہوئی ہے مسلمان ہے۔ یعنی آیا باور نمی کنی ۔ صبح کو جب میں تحصیل میں گیا تو وہاں جا کر ایک شخص سے جو حاکم کا سر رشتہ دار تھا۔ میں نے دریافت کیا کہ کیا فلاں مقدمہ خارج ہو گیا ہے۔ اس نے کہا نہیں اس میں تو ڈگری ہو گئی ہے۔ پھر میں نے اس سے کہا کہ انہوں نے گاؤں میں مشہور کیا ہے کہ وہ مقدمہ خارج ہو گیا ہے یہ کیا بات ہے؟ اس نے کہا اصل بات یہ ہے کہ اس خبر میں وہ بھی سچے ہیں۔ جب حافظ ہدایت علی صاحب فیصلہ لکھنے لگے تو میں کہیں باہر چلا گیا تھا، جب باہر سے آیا تو انہوں نے رو بکار مجھے دی کہ یہ مقدمہ خارج کر دیا ہے۔ سر رشتہ دار کہتا ہے کہ تب میں نے ان کو کہا کہ تم نے غلطی کی ہے۔ اس نے کہا نہیں میں نے کمشنر کا فیصلہ جو انہوں نے پیش کیا تھا دیکھ لیا ہے۔ میں نے ان کو کہا کہ فنانشل کمشنر کا فیصلہ بھی تو دیکھنا تھا۔ پھر اسے معلوم ہوا کہ وہ فیصلہ جو اس نے کیا تھا وہ غلط ہے۔ اس نے رو بکار لے کر پھاڑ کر پھینک دی اور دوسری رو بکار لکھی جس میں ڈگری کا فیصلہ دیا اور اس طرح پر پیشگوئی جو خدا تعالیٰ نے قبل از وقت مجھے بتلائی تھی پوری ہوئی ۔ اس پیشگوئی کے بھی بہت سے لوگ گواہ ہیں اور ابتک موجود ہیں ۔ )ث( ا - ثَمَانِينَ حَوْلًا - پھرت میں ثَمَانِينَ حَوْلا کی پیشگوئی ہے۔ اس پیشگوئی پر ایک زمانہ گزر گیا۔ کوئی شخص ایک