ملفوظات (جلد 3) — Page 152
ملفوظات حضرت مسیح موعود نہ گذرا تھا کہ یہ بالکل اچھا ہو گیا۔ لے ۲- بشمبر داس ۱۵۲ جلد سوم اسی طرح ب کی مد میں بشمبر د اس کو داخل کرتے ہیں۔ بشمبر داس قادیان کا رہنے والا ایک ہندو تھا اور ایک خوشحال برہمن جو اس وقت پٹواری تھا۔ یہ دونوں ایک مقدمہ میں ماخوذ ہوئے ۔ جس میں خوشحال کو دو سال اور بشمبر داس کو ایک سال کی قید کی سزا ہوئی۔ شرمیت رائے نے آکر مجھے دعا کے واسطے کہا اور میں نے دعا کی تو میں نے کشف میں دیکھا کہ میں نے اپنے ہاتھ سے اس کی نصف قید کاٹ دی ہے اور پھر میں نے دیکھا کہ مثل واپس آکر نصف قید رہ جاوے گی اور خوشحال اپنی پوری سزا بھگتے گا۔ یہ خبر میں نے پہلے ہی شرمیت کو دے دی۔ وہ اب تک زندہ موجود ہے اور اگر اس کو قسم دے کر پوچھا جاوے تو وہ انکار نہ کرے گا۔ غرض آخر جس طرح پر میں نے خبر دی تھی اور مجھے دکھایا گیا تھا وہی ظہور میں آیا یعنی مثل واپس آئی اور اس میں بشمبر کی نصف سزارہ گئی ۔ وہ نصف قید بھگت کر رہا ہوا ۔ اس پر شرمیت نے کہا کہ تم چونکہ متقی ہو اس لیے دعا قبول ہو گئی۔ چونکہ اسلام کے ساتھ ان لوگوں کو بغض اور عداوت ہے اس لیے شرارت سے اسلام کی تعریف نہ کی ۔ اس مقدمہ میں جب اپیل کیا گیا تو رات کو علی محمد نام ایک شخص آیا اور اس نے آکر خبر دی کہ وہ بری ہو گئے ہیں۔ مجھے یہ خبر سن کر تعجب ہوا کیونکہ میں نے مذکورہ بالا پیشگوئی کی تھی۔ اس تردد میں جب میں نے نماز پڑھی تو نماز ہی میں الہام ہوا إِنَّكَ أَنْتَ الْأَعْلیٰ ۔ وہ رات تو اسی طرح گزر گئی اور میں نے مزید تحقیقات نہ کی لیکن صبح کو اصل حال معلوم ہو گیا کہ اپیل لے گئے تھے جس سے یہ غلط نتیجہ نکال لیا گیا کہ وہ بری ہو گئے ہیں۔ آخر جیسا کہ میں نے کہا ہے اسی طرح پیشگوئی کے موافق مثل واپس آئی اور اس میں بشمبر کی قید نصف رہ گئی اور خوشحال کو پوری سزا بھگتنی پڑی۔ اب بتاؤ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے کیسے زبر دست نشان ہیں۔اب تک ان واقعات کے زندہ گواہ موجود ہیں۔ ان سے قسم دے کر پوچھا جاوے کہ کیا قبل از وقت ان کو بتایا گیا تھا یا نہیں؟ اور پھر ٹھیک پیشگوئی کے موافق ان کا ظہور ہوا ہے یا نہیں؟ له الحکم جلد ۶ نمبر ۳۱ مورخه ۳۱ اگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۲ تا ۴