ملفوظات (جلد 3) — Page 151
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۵۱ جلد سوم میرے دل میں بشریت کے تقاضے کے موافق یہ خیال گذرا۔ اور میں اس کو بھی خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے سمجھتا ہوں کہ چونکہ معاش کے بہت سے اسباب ان کی زندگی سے وابستہ تھے۔ کچھ انعام انہیں ملتا تھا اور کچھ اور مختلف صورتیں آمدنی کی تھیں جس سے کوئی دو ہزار کے قریب آمدنی ہوتی تھی۔ میں نے سمجھا کہ اب وہ چونکہ ضبط ہو جائیں گے اس لیے ہمیں ابتلا آئے گا ۔ یہ خیال تکلف کے طور پر نہیں بلکہ خدا ہی کی طرف سے میرے دل میں گذرا۔ اور اس کے گزرنے کے ساتھ ہی پھر یہ الہام ہوا الَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَه یعنی کیا اللہ اپنے بندہ کے لیے کافی نہیں ہے چنانچہ یہ الہام میں نے ملا وامل اور شرمیت کی معرفت ایک انگشتری میں اسی وقت لکھوا لیا تھا جو حکیم محمد شریف کی معرفت امرتسر سے بنوائی تھی اور وہ انگشتری میں کھدا ہوا الہام موجود ہے۔ اب دیکھ لو کہ اس وقت سے لے کر آج تک کیسا تکفل کیا۔ اگر کسی کو شک ہو تو ملا وامل اور شرمیت سے پوچھ لے۔ محمد شریف کی اولاد موجود ہے۔ شاید وہ مہر کن بھی موجود ہو۔ تکفل بڑھتا گیا حمد ہے یا نہیں جس جس قدر ضرورتیں پیش آتی گئی ہیں خود اس نے اپنے وعدہ کے موافق تکفل کیا ہے اور کرتا ہے۔ اب بتاؤ کہ کیا یہ کوئی چھوٹا سا نشان ہے۔ اس طرح پر الف میں اور بہت سے نشان آسکتے ہیں ۔ - کپ )ب( پھر اب ب کی مد میں دیکھو۔ بشیر ہے۔ یہ لڑکا بشیر جو اب موجود ہے اس کی بابت پہلے اشتہار ہوا تھا اور اس اشتہار کے موافق ۔ یہ پیدا ہوا۔ پھر اس کی آنکھوں سے اس قدر پانی جاری تھا کہ آنکھیں بوٹی کی طرح سرخ ہو گئی تھیں اور مجھے اندیشہ تھا کہ آنکھوں کو خطرناک نقصان نہ پہنچے۔ اس وقت میں نے دعا کی تب الہام ہوا بَرَّقَ طِفْلِی بَشِيرٌ ۔ بہت سے لوگ اس الہام کے بھی گواہ موجود ہیں کیونکہ میں الہام پوشیدہ تو رکھتا ہی نہیں ہوں۔ تبریق کے معنے ہیں آنکھوں کا اچھا ہونا۔ چنانچہ ہفتہ بھی