ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 146 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 146

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۶ جلد سوم اسی طرح پر اور قسم قسم کی بدکاریاں اور شرارتیں ہو رہی زت گناہ اور اس کا علاج ہیں ۔ غرض دنیا میں گناہ کے سیلاب کا طوفان آیا ہوا ہے اور کثرت اس دریا کا گو یا بند ٹوٹ گیا ہے۔ اب سوال یہ ہوتا ہے کہ یہ گناہ جو کیڑوں کی طرح چل رہے ہیں کوئی ایسی صورت بھی ہے کہ جس سے یہ بلا دور ہو جائے اور دنیا جو خباثت اور گناہ کے زہر اور لعنت سے بھر گئی ہے کسی طرح پر صاف ہو سکتی ہے یا نہیں؟ اس سوال کو قریباً تمام مذہبوں اور ملتوں نے محسوس کیا ہے۔ اور اپنی اپنی جگہ پر وہ کوئی نہ کوئی علاج بھی گناہ کا بتاتے ہیں ۔ مگر تجربہ سے معلوم ہوا ہے کہ اس زہر کا تریاق کسی کے پاس نہیں ۔ اُن کے علاج استعمال کر کے مرض بڑھا ہے گھٹا نہیں ۔ مثال کے طور پر ہم عیسائی مذہب کا نام لیتے ہیں ۔ اس مذہب نے گناہ کا علاج مسیح کے خون پر ایمان لا نا رکھا ہے کہ مسیح ہمارے بدلے یہودیوں کے ہاتھوں صلیب لڑکا یا جا کر جو ملعون ہو چکا ہے اس کی لعنت نے ہم کو برکت دی ۔ یہ عجیب فلاسفی ہے جو کسی زمانہ اور عمر میں سمجھی نہیں جاسکتی ۔ لعنت برکت کا موجب کیوں کر ہو سکتی ہے اور ایک کی موت دوسرے کی زندگی کا ذریعہ کیوں کر ٹھہرتی ہے؟ ہم عیسائیوں کے اس طریق علاج کو عقلی دلائل کے معیار پر بھی پرکھنے کی ضرورت نہ سمجھتے اگر کم از کم عیسائی دنیا میں یہ نظر آتا کہ وہاں گناہ نہیں ہے۔ لیکن جب یہ دیکھا جاتا ہے کہ وہاں حیوانوں سے بھی بڑھ کر ذلیل زندگی بسر کی جاتی ہے تو ہم کو اس طریق انسداد گناہ پر اور بھی حیرت ہوتی ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ اس سے بہتر تھا کہ یہ کفارہ نہ ہوا ہوتا جس نے اباحت کا دریا چلا دیا۔ اور پھر اس کو معافی گناہ سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔ اسی طرح پر دوسرے لوگوں نے جو طریق نجات کے ایجاد کئے ہیں وہ اس قابل نہیں ہیں کہ اُن سے گناہ کی زندگی پر کبھی موت وارد ہوئی ہو۔ پھر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شریر اور خطا کار قو میں معجزات دیکھ کر پیشگوئیاں دیکھ کر باز نہیں آئیں۔ حضرت موسی کے معجزات کیا کم تھے؟ کیا بنی اسرائیل نے کھلے کھلے نشان نہ دیکھے تھے مگر بتاؤ کہ اُن میں وہ تقویٰ ، وہ خدا ترسی اور نیکی جو حضرت موسیٰ چاہتے تھے کامل طور پر پیدا ہوئی آخر ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ ( البقرة : ۶۲) کے مصداق وہ قوم ہو گئی۔ پھر