ملفوظات (جلد 3) — Page 145
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۵ جلد سوم ہے جس میں امیر ، غریب، بچے، جوان، بوڑھے ہر قسم کے لوگ شامل ہیں ۔ پس غریبوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے معزز بھائیوں کی قدر کریں اور عزت کریں اور امیروں کا فرض ہے کہ وہ غریبوں کی مدد کریں ان کو فقیر اور ذلیل نہ سمجھیں کیونکہ وہ بھی بھائی ہیں گو باپ جُدا جُدا ہوں مگر آخر تم سب کا روحانی باپ ایک ہی ہے اور وہ ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں ۔ بدکاری فسق و فجور سب گناہ ہیں ۔ مگر یہ ضرور دیکھا جاتا ہے کہ شیطان نے جھوٹ کی مذمت یہ جو جال پھینکا ہے اُس سے بجز خدا کے فضل کے کوئی نہیں بچ سکتا۔ بعض وقت یونہی جھوٹ بول دیتا ہے مثلا بازیگر نے دس ہاتھ چھلانگ ماری ہو تو محض دوسروں کو خوش کرنے کے لیے یہ بیان کر دیتا ہے کہ چالیس ہاتھ کی ماری ہے۔ اس قسم کی شرارتیں شیطان نے پھیلا رکھی ہیں اس لیے چاہیے کہ تمہاری زبانیں تمہارے قابو میں ہوں۔ ہر قسم کے لغو اور فضول باتوں سے پر ہیز کرنے والی ہوں ۔ جھوٹ اس قدر عام ہو رہا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔ درویش، مولوی ، قصه گو، واعظ اپنے بیانات کو سجانے کے لیے خدا سے نہ ڈر کر جھوٹ بول دیتے ہیں اور اس قسم کے اور بہت سے گناہ ہیں جو ملک میں کثرت کے ساتھ پھیلے ہوئے ہیں۔ اے قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے جیسا کہ فرمایا ہے فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ (الحج : ۳۱) دیکھو! یہاں جھوٹ کو بت کے مقابل رکھا ہے اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بہت ہی ہے ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔ جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجز ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ سچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جاوے تو جلدی سے دور نہیں ہوتا۔ مدت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت اُن کو ہوگی ۔ ه الحکم جلد ۶ نمبر ۳۰ مورخه ۲۴ اگست ۱۹۰۲ صفحه ۱ تا ۳