ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 147 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 147

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۷ جلد سوم حضرت مسیح کے معجزات دیکھنے والے لوگوں کو دیکھو کہ اُن میں کہاں تک نیکی اور پرہیز گاری اور وفاداری کے اصولوں کی رعایت تھی۔ اُن میں سے ہی ایک اٹھا اور اے ربی! تجھ پر سلام کہتے ہوئے پکڑوا دیا۔ اور دوسرے نے سامنے لعنت کی ۔ ان ساری باتوں کو دیکھ کر پھر سوال ہوتا ہے کہ وہ کیا چیز ہے جو انسان کو واقعی گناہ سے روک سکتی ہے؟ میرے نزد یک خدا تعالیٰ کا خوف اور خشیت ایسی چیز ہے جو انسان کی گناہ کی زندگی پر موت وارد کرتی ہے۔ جب سچا خوف دل میں پیدا ہوتا ہے تو پھر دعا کے لیے تحریک ہوتی ہے اور دعا وہ چیز ہے جو انسان کی کمزوریوں کا جبر نقصان کرتی ہے۔ اس لیے دعا کرنی چاہیے ۔ خدا تعالیٰ کا وعدہ بھی ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُم (المؤمن : ۶۱) بعض وقت انسان کو ایک دھوکا لگتا ہے کہ وہ عرصہ دراز تک ایک مطلب کے لیے دعا کرتا ہے اور وہ مطلب پورا نہیں ہوتا تب وہ گھبرا جاتا ہے، حالانکہ گھبرانا نہ چاہیے بلکہ طلبگار باید صبور وحمول دعا تو قبول ہو جاتی ہے لیکن انسان کو بعض دفعہ پتہ نہیں لگتا۔ کیونکہ وہ اپنے دعا کے انجام اور نتائج سے آگاہ نہیں ہوتا اور اللہ تعالیٰ جو عالم الغیب ہے اس کے لیے وہ کرتا ہے جو مفید ہوتا ہے ۔ اس لیے نادان انسان یہ خیال کر لیتا ہے کہ میری دعا قبول نہیں ہوئی حالانکہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ کے علم میں یہی مفید تھا کہ وہ دعا اس طرح پر قبول نہ ہو بلکہ کسی اور رنگ میں ہو۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے ایک بچہ اپنی ماں سے آگ کا سرخ انگارہ دیکھ کر مانگے تو کیا دانش مند ماں اُسے دیدے گی؟ کبھی نہیں ۔ اسی طرح پر دعا کے متعلق بھی ہوتا ہے۔ غرض دعائیں کرنے سے کبھی تھکنا نہیں چاہیے۔ دعا ہی ایسی چیز ہے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک قوت اور نور عطا کرتی ہے جس سے انسان بدی پر غالب آجاتا ہے۔ مجھے بارہا اس امر کا خیال آیا ہے کہ ہماری جماعت یہ صداقت کے دلائل اور نشانات افسوس نہیں کر سکتی کہ ہمیں خدا تعالی نے کچھ نہیں دکھایا ہے بلکہ یہاں تو اس قدر ثبوت اور نشان اس نے جمع کر دیئے ہیں کہ سلسلہ نبوت میں اس کی نظیریں بہت تھوڑی ملیں گی ۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی پہلو ثبوت کا خالی نہیں رکھا۔ نصوص قرآنیہ و حدیثیہ ہماری تائید