ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 144 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 144

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۴ جلد سوم سے محبت کرے۔ میں جو یہ سنتا ہوں کہ کوئی کسی کی لغزش دیکھتا ہے تو وہ اس سے اخلاق سے پیش نہیں آتا بلکہ نفرت اور کراہت سے پیش آتا ہے حالانکہ چاہیے تو یہ کہ اس کے لیے دعا کرے، محبت کرے اور اُسے نرمی اور اخلاق سے سمجھائے مگر بجائے اس کے کینہ میں زیادہ ہوتا ہے۔ اگر عفو نہ کیا جاوے، ہمدردی نہ کی جاوے اس طرح پر بگڑتے بگڑتے انجام بد ہو جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ کو یہ منظور نہیں۔ جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کرے۔ پردہ پوشی کی جاوے۔ جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں۔ ایک شخص کا بیٹا ہو اور اس سے کوئی قصور سر ز دہو تو اس کی پردہ پوشی کی جاتی ہے اور اس کو الگ سمجھایا جاتا ہے۔ بھائی کی پردہ پوشی کبھی نہیں چاہتا کہ اس کے لئے اشتہار دے۔ پھر جب خدا تعالیٰ بھائی بناتا ہے تو کیا بھائیوں کے حقوق یہی ہیں ؟ دنیا کے بھائی اخوت کا طریق نہیں چھوڑتے۔ میں مرزا نظام الدین وغیرہ کو دیکھتا ہوں کہ ان کی اباحت کی زندگی ہے مگر جب کوئی معاملہ ہو تو تینوں اکٹھے ہو جاتے ہیں ۔ فقیری بھی الگ رہ جاتی ہے۔ بعض وقت انسان جانور بندر یا کتے سے بھی سیکھ لیتا ہے۔ یہ طریق نا مبارک ہے کہ اندرونی پھوٹ ہو ۔ خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق و نعمت اخوت یاد دلائی ہے۔ اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوت ان کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی ۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوت وہ یہاں قائم کریگا ۔ خدا تعالیٰ پر مجھے بہت بڑی اُمیدیں ہیں۔ اُس نے وعدہ کیا ہے جَاعِلُ الَّذِينَ اتَّبَعُوكَ فَوْقَ الَّذِينَ كَفَرُوا إِلى يَوْمِ الْقِيمَةِ ( ال عمران : ۵۶) ۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ وہ ایک جماعت قائم کرے گا ۔ جو قیامت تک منکروں پر غالب رہے گی ۔ مگر یہ دن جو ابتلا کے ہیں اور کمزوری کے ایام ہیں ہر ایک شخص کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اپنی حالت میں تبدیلی کرے۔ دیکھو! ایک دوسرے کا شکوہ کرنا ، دل آزاری کرنا اور سخت زبانی کر کے دن دوسرے کے دل کو صدمہ پہنچانا اور کمزوروں اور عاجزوں کو حقیر سمجھنا سخت گناہ ہے۔ اب تم میں ایک نئی برادری اور نئی اخوت قائم ہوئی ہے۔ پچھلے سلسلے منقطع ہو گئے ہیں۔ خدا تعالیٰ نے یہ نئی قوم بنائی