ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 143 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 143

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۴۳ جلد سوم جاوے۔ صحابہؓ کو یہی تعلیم ہوئی کہ نئے مسلموں کی کمزوریاں دیکھ کر نہ چڑو کیونکہ تم بھی ایسے ہی کمزور تھے۔ اسی طرح یہ ضرور ہے کہ بڑا چھوٹے کی خدمت کرے اور محبت ملائمت کے ساتھ برتاؤ کرے۔ دیکھو! وہ جماعت جماعت نہیں ہو سکتی جو ایک دوسرے کو کھائے اور جب چار مل کر بیٹھیں تو ایک اپنے غریب بھائی کا گلہ کریں اور نکتہ چینیاں کرتے رہیں اور کمزوروں اور غریبوں کی حقارت کریں اور اُن کو حقارت اور نفرت کی نگاہ سے دیکھیں۔ ایسا ہر گز نہیں چاہیے۔ بلکہ اجماع میں چاہیے کہ قوت آجاوے اوے اور وحدت پیدا ہو جاوے جس سے محبت آتی ہے اور برکات پیدا ہوتے ہیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ذرا ذراسی بات پر اختلاف پیدا ہو جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مخالف لوگ جو ہماری ذرا ذراسی بات پر نظر رکھتے ہیں معمولی باتوں کو اخباروں میں بہت بڑی بنا کر پیش کر دیتے ہیں اور خلق کو گمراہ کرتے ہیں۔ لیکن اگر اندرونی کمزوریاں نہ ہوں تو کیوں کسی کو جرات ہو کہ اس قسم کے مضامین شائع کرے اور ایسی خبروں کی اشاعت سے لوگوں کو دھوکا دے۔ کیوں نہیں کیا جاتا کہ اخلاقی قوتوں کو وسیع کیا جاوے۔ اور یہ تب ہوتا ہے کہ جب ہمدردی ، محبت اور عفو اور کرم کو عام کیا جاوے اور تمام عادتوں پر رحم اور ہمدردی، پردہ پوشی کو مقدم کر لیا جاوے ۔ ذرا ذراسی بات پر ایسی سخت گرفتیں نہیں ہونی چاہئیں جو دل شکنی اور رنج کا موجب ہوتی ہیں۔ یہاں مدرسہ ہے ، مطبع ہے مگر کیا اصل اغراض ہمارے یہی ہیں یا اصل امور اور مقاصد کے لیے بطور خادم ہیں؟ کیا ہماری غرض اتنی ہی ہے کہ یہ لڑکے پڑھ کر نوکریاں کریں یا کتا بیں بیچتے رہیں ۔ یہ تو سفلی اُمور ہیں ان سے ہمیں کیا تعلق ۔ یہ بالکل ابتدائی امور ہیں ۔ اگر مدرسہ چلتا رہے تب بھی بنظرِ ظاہر بیس برس تک بھی یہ اس حالت تک نہیں پہنچ سکتا جو اس وقت علیگڑھ کالج کی ہے۔ یہ امر دیگر ہے کہ اگر خدا چاہے تو ایک دم میں ہی علیگڑھ کالج سے بھی بڑا بنادے مگر ہماری ساری طاقتیں اور قوتیں اسی ایک امر میں خرچ ہو جانی ضرور نہیں ہیں ۔ اخوت و ہمدردی کی نصیحت ہماری جماعت کو سرسبزی نہیں آئے گی جب تک وہ آپس میں و کی سچی ہمدردی نہ کریں ۔ جس کو پوری طاقت دی گئی ہے وہ کمزور