ملفوظات (جلد 3) — Page 132
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۲ جلد سوم پر بھروسہ نہیں اور ان کے پاس روپیہ تھا وہ چوری چلا گیا۔ اس کے ساتھ ہی زبان بند ہو گئی ۔ اور اُن جو بہشت میں کہا جاتا ہے اُن کی خود کشیوں کو دیکھو کہ کس قدر کثرت سے ہوتی ہیں۔ تھوڑی تھوڑی باتوں پر خود کشی کر لیتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ ایسے ضعیف القلب اور پست ہمت ہوتے ہیں کہ غم کی برداشت ان میں نہیں ہے۔ جس کو غم کی برداشت اور مصیبت کے مقابلہ کی طاقت نہیں اس کے پاس راحت کا سامان بھی نہیں ہے۔ خواہ ہم اس کو سمجھا سکیں یا نہ سمجھا سکیں اور کوئی سمجھ سکے یا نہ سمجھ سکے۔ حقیقت الامر یہی ہے کہ لذائذ کا مزہ صرف تقویٰ ہی سے آتا ہے۔ جو متقی ہوتا ہے اس کے دل میں راحت ہوتی ہے اور ابدی سرور ہوتا ہے۔ دیکھو! ایک دوست کے ساتھ تعلق ہو میں اور کے تو کس قدر خوشی اور راحت ہوتی ہے لیکن جس کا خدا سے تعلق ہوا سے کس قدر خوشی ہوگی ۔ جس کا تعلق خدا سے نہیں ہے اُسے کیا امید ہو سکتی ہے اور امید ہی تو ایک چیز ہے جس سے بہشتی زندگی شروع ہوتی ہے۔ ان مہذب ممالک میں اس قدر خود کشیاں ہوتی ہیں کہ جن سے پایا جاتا ہے کہ کوئی راحت نہیں ۔ ذرا راحت کا میدان گم ہوا اور جھٹ خود کشی کر لی لیکن جو تقوی رکھتا ہے اور خدا سے تعلق رکھتا ہے اُسے وہ جاودانی خوشی حاصل ہے جو ایمان سے آتی ہے۔ دنیا کی تمام چیزیں معرض تغیر و تبدل میں ہیں ۔ مختلف آفات آتی رہتی ہیں۔ بیماریاں حملے کرتی ہیں ۔ کبھی بچے مر جاتے ہیں ۔ غرض کوئی نہ کوئی دکھ یا تکلیف رہتی ہے اور دنیا جائے آفات ہے اور نہ یا ۔ یہ امور سکھ کی نیند انسان کو سونے نہیں دیتے۔ جس قدر تعلقات وسیع ہوتے ہیں اسی قدر آفتوں اور مصیبتوں کا میدان وسیع ہوتا ہے اور یہ آفتیں اور بلائیں انسان کے منزلی تعلقات میں ایک غم کو پچاس بنادیتی ہیں۔ کیونکہ اگر اکیلا ہو تو غم کم ہو مگر جب بچے، بیوی، ماں باپ، بہن بھائی اور دوسرے رشتہ دار رکھتا ہے تو پھر ذراسی تکلیف ہوئی اور یہ آفت میں پڑا۔ اس قدر مجموعہ کے ساتھ تو اُس وقت راحت ہو سکتی ہے جب کسی کو کوئی بیماری اور آفت نہ ہو اور کوئی تکلیف میں نہ ہو۔ یہ بات بھی غلط ہے کہ مال سے راحت ہو۔ صرف مال موجب راحت نہیں ہے نرے مال سے راحت نہیں ہے۔ اگر مال ہے