ملفوظات (جلد 3) — Page 131
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۱ جلد سوم سچی عیسائیت مسیح اور اس کے حواریوں میں تھی اور سچا اسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ میں تھا۔ پس ان دونوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔ اس پر حضرت حجتہ اللہ نے بہ تسلسل کلام سابق پھر ارشاد فرمایا۔ ان روحانی امور میں ہر شخص کا کام نہیں ہے کہ نتیجہ نکال لے۔ یہ لوگ جو لندن جاتے ہیں وہ وہاں جا کر دیکھتے ہیں کہ بڑی آزادی ہے شراب خوری کی اس قدر کثرت ہے کہ ساٹھ میل تک شراب کی دکانیں چلی جاتی ہیں۔ زنا اور غیر زنا میں کوئی فرق ہی نہیں ۔ کیا یہ بہشت ہے؟ بہشت سے یہ مراد نہیں ہے۔ دیکھو! انسان کی بھی بیوی ہے اور وہ تعلقات زوجیت رکھتا ہے اور پرندوں اور حیوانات میں بھی یہ یہ تعلقات تعلقا ہیں ، مگر انسان انسان کو کو اللہ اللہ تعالیٰ تعالیٰ نے نے ا ایک نظافت اور ادراک بخشا ہے۔ انسان جن حواس اور قومی کے ساتھ آیا ہے اُن کے ساتھ وہ ان تعلقات زوجیت میں زیادہ لطف اور سرور حاصل کرتا ہے بمقابلہ حیوانات کے جو ایسے حواس اور ادراک نہیں رکھتے ہیں اور اسی لیے وہ اپنے جوڑے کی کوئی رعایت نہیں رکھتے جیسے کتے ۔ پس اگر انسان ان حواس کے ساتھ سرور حاصل نہیں کر سکتے بلکہ حیوانات کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں پھر اُن میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہوا۔ یہ جو فرمایا ہے کہ مومن کے لیے ہی جنت ہے یہ اس لیے فرمایا ہے کہ سچی راحت دنیا کی لذات سے تب پیدا ہوتی ہے جب تقوی ساتھ ہو۔ جو تقویٰ کو چھوڑ دیتا ہے اور حلال و حرام کی قید اُٹھا دیتا ہے وہ تو اپنے مقام سے نیچے گر جاتا ہے اور حیوانی درجہ میں آجاتا ہے۔ لندن میں جب ہائیڈو پارک میں حیوانوں کی طرح بدکاریاں ہوتی ہیں اور کوئی شرم و حیا ایک دوسرے سے نہیں کیا جاتا تو پھر ایک شخص انسانیت کو ضبط رکھ کر دیکھے تو ایسی بہشت اور راحت سے ہزار تو بہ کرے گا کہ ایسی دیوث اور بے غیرت جماعت سے خدا بچائے۔ ایسی جماعت کو جو ایسی زندگی بسر کرتی ہے بہشت میں سمجھنا حماقت ہے۔ اصل یہی ہے کہ بہشت کی کلید تقوی ہے۔ جس کو خدا تعالیٰ پر بھروسہ نہیں اُسے سچی راحت کیوں کر مل سکتی ہے۔ بعض آدمی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ جن کو خدا