ملفوظات (جلد 3) — Page 133
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۳۳ جلد سوم صحت اچھی نہیں ۔ مثلاً معدہ خراب ہے تو وہ کیا بہشتی زندگی ہوگی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مال بھی راحت کا باعث نہیں ۔ سچی بات یہی ہے کہ جو خدا سے تعلق رکھتا ہے وہی ہر پہلو سے بہشتی زندگی رکھتا ہے کیونکہ اللہ قادر ہے کہ وہ بلائیں اور آفتیں نہ آئیں اور مالی اضطرار بھی نہ ہو۔ یا آئیں تو دل میں ایسی قوت اور ہمت بخش دے کہ وہ اُن کا پورا مقابلہ کر سکے ۔ جس قدر پہلو انسان کی عافیت کے لیے ضروری ہیں وہ کسی بادشاہ کے بھی ہاتھ میں نہیں ہیں بلکہ وہ سب ایک ہی کے ہاتھ میں ہے جو بادشاہوں کا بادشاہ ہے جسے چاہے دیدے۔ بعض لوگ اس قسم کے دیکھے گئے ہیں کہ روپیہ پیسہ سب کچھ موجود ہے مگر مسئول مدقوق ہو جاتے ہیں اور زندگی انہیں تلخ معلوم ہوتی ہے۔ پس ان کروڑوں آفات کا جو انسان کو لگی ہوئی ہیں کون بندو بست کر سکتا ہے اور اگر رنج بھی ہو تو صبر جمیل کون دے سکتا ہے؟ اللہ ہی ہے جو عطا کرے۔ صبر بھی بڑی چیز ہے جو بڑی بڑی آفتوں اور مصیبتوں کے وقت بھی غم کو پاس نہیں آنے دیتا۔ بعض امیر ایسے ہوتے ہیں کہ عافیت اور راحت کے زمانہ میں بڑے مغرور اور متکبر ہوتے ہیں اور ذرا رنج آ گیا تو بچوں کی طرح چلا اٹھے۔ اب ہم کسی کا نام لے سکتے ہیں کہ اس پر حوادث نہ آئیں اور متعلقین کو رنج نہ پہنچے؟ کسی کا نام نہیں لے سکتے ۔ یہ بہشتی زندگی کس کی ہو سکتی ہے۔ صرف اُس شخص کی جس پر خدا کا فضل ہو۔ اس لیے یہ بڑی غلطی ہے جو یو نہی کسی کے سفید کپڑے دیکھ کر کہہ دیتے ہیں کہ وہ بہشتی زندگی بہشتی زندگی رکھتے ہیں۔ ان سے جاکر پوچھو تومعلوم ہو کہ کتنی باتیں سناتے ہیں ۔ صرف کپڑے دیکھ کر یا بگیوں پر سوار ہوتے دیکھ کر شراب پیتے دیکھ کر ایسا خیال کر لینا غلط ہے۔ ماسوا اس کے اباحتی زندگی بجائے خود جہنم ہے۔ کوئی ادب اور تعلق خدا سے نہیں ۔ اس سے بڑھ کر جہنمی زندگی کیا ہوگی ۔ کتا خواہ مردار کھا لے خواہ بدکاری کرے کیا وہ بہشتی زندگی ہوگی؟ اسی طرح پر جو شخص مردار کھاتا ہے اور بدکاریوں میں مبتلا ہے، حرام وحلال کے مال کو نہیں سمجھتا یہ لعنتی زندگی ہے ، اس کو بہشتی زندگی سے کیا تعلق؟