ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 130 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 130

ملفوظات حضرت مسیح موعود جملہ معترضہ ۱۳۰ جلد سوم یہاں حضرت مولانا مولوی نورالدین صاحب نے عرض کی کہ جب میں پہلے پہل یہاں آیا تو حضور علامات المقربین ایک رسالہ لکھ رہے تھے ۔ واپسی پر گجرات ٹھہرا تو ایک شخص نے مجھ سے دریافت کیا کہ آج کل مرزا صاحب کیا لکھ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اِنَّ الْأَبْرَارَ لَفِي نَعِيمٍ (الانفطار : (۱۴) کی تفسیر لکھ رہے ہیں ۔ اس نے کہا کہ یہ کفار آرام میں نہیں ؟ میں ہیں؟ سارا دن بگھیاں چلتی رہتی ہیں۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ آپ کے اس آیت کے پڑھنے سے ایک اور آیت یاد آگئی وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ جَنَّتُن (الرحمن : ۴۷) ۔ غرض یہ دیکھا جاتا ہے کہ اس قسم کے واقعات ہوتے ہیں مگر تجربہ دلالت کرتا ہے کہ یہ امور خدا کی طرف منسوب نہیں ہو سکتے ۔ ہمارا یہ مذہب ہے کہ وہ وعدے جو خدا تعالیٰ نے کئے ہیں کہ متقیوں کو خود اللہ تعالی رزق دیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں بیان کیا ہے یہ سب سچ ہیں۔ اور سلسلہ اہل اللہ کی طرف دیکھا جاوے تو کوئی ابرار میں سے ایسا نہیں ہے کہ بھو کا مرا ہو۔ مومنوں نے جن پر شہادت دی اور جن کو اتقیامان لیا گیا ہے۔ یہی نہیں کہ وہ فقر وفاقہ سے بچے ہوئے تھے ۔ گو اعلیٰ درجہ کی خوشحالیاں نہ ہوں مگر اس قسم کا اضطراری فقر وفاقہ بھی کبھی نہیں ہوا کہ عذاب محسوس کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر اختیار کیا ہوا تھا ۔ مگر آپ کی سخاوت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود آپ نے اختیار کیا ہوا تھا ، نہ کہ بطور سزا تھا۔ غرض اس راہ میں بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ بعض لوگ ایسے دیکھے جاتے ہیں کہ بظاہر متقی اور صالح ہوتے ہیں مگر رزق سے تنگ ہوتے ہیں۔ ان سب حالات کو دیکھ کر آخر یہی کہنا پڑتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے وعدے تو سب سچ ہیں لیکن انسانی کمزوری ہی کا اعتراف کرنا پڑتا ہے۔ حضرت مولانا مولوی حکیم نورالدین صاحب نے یورپ کی پر آسائش زندگی جنت نہیں پھر ذکر کیا کہ لندن سے ایک شخص نے مجھے خط لکھا کہ لندن آکر دیکھو کہ جنت عیسائیوں کو حاصل ہے یا مسلمانوں کو۔ میں نے اس کو جواب لکھا کہ