ملفوظات (جلد 3) — Page 126
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۶ جلد سوم فرمایا کہ کسی وقت کا اخلاص اور خدمت انسان کے کام آجاتا ہے۔ شاید ان وقتوں کا اخلاص ہی ہو جو بالآخر مولوی محمد حسین صاحب کو اس سلسلہ کی طرف رجوع کرنے کی توفیق دے کیونکہ وہ بہت ٹھوکریں کھا چکے ہیں اور آخر د یکھ چکے ہیں کہ خدا کے کاموں میں کوئی خارج نہیں ہو سکتا۔ فرمایا۔ایسا ہی اجتہادی طور پر ہمیں بعض لوگوں پر بھی حسن ظن ہے کہ وہ کسی وقت رجوع کریں گے کیونکہ ایک دفعہ الہام ہوا تھا کہ لاہور میں ہمارے پاک محب ہیں، وسوسہ پڑ گیا ہے پر مٹی نظیف ہے، وسوسہ نہیں رہے گا۔ مٹی رہے گی ۔“ 66 اس کے بعد چند مختلف باتیں ہو کر نماز عشاء ادا کی گئی ۔ ۱۳ راگست ۱۹۰۲ء (بوقتِ شام) نماز مغرب کے بعد حضرت اقدس نے کل کی تجویز کی تکمیل کے لیے فرمایا کہ بہت ہی بہتر ہو کہ اگر مخالفین مخالفین کے لیے اہم اعتراضات جمع کر لینے کا ارشاد کی کل کتا میں جمع کر کے اُن کے اہم اعتراضات کو یکجا کر لیا جاوے، تا کہ ان کا جواب بھی ہماری اس کتاب میں آجاوے اور یہ کتاب تمام مسائل کی جامع ہو جاوے۔ اس کے بعد مولوی عبدالکریم صاحب نے اس چٹھی کے مضمون کا تمہ پڑھ کر سنایا جوامریکہ کے مشہور کا ذب مفتری الیاس ڈاکٹر ڈوئی کے نام مقابلہ کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس تتمہ کا خلاصہ یہ ہے حضرت اقدس نے اس خلاصہ تمہ چٹھی بنام الیاس ڈاکٹر ڈوئی میں لکھا ہے کہ صادق اور کاذب کی شناخت کا معیار وہ امر کبھی نہیں ہو سکتا جو مختلف قوموں میں بطور امر مشترک