ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 125

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۵ جلد سوم قرآن شریف کے بعد تعامل یعنی سنت ہے اور پھر حدیث ہے جو اُن کے مطابق ہو۔ مولوی محمد حسین نے پہلے اپنے رسالہ اشاعۃ السنۃ میں ایسا ہی ظاہر کیا تھا کہ جو لوگ خدا سے وحی اور الہام پاتے ہیں وہ اپنے طور پر براہِ راست احادیث کی صحت احادیث کی صحت کر لیتے ہیں بعض وقت قواعد علم حدیث کی روح سے ایک حدیث موضوع ہوتی ہے اور ان کے نزدیک صحیح اور ایک حدیث صحیح قراردی ہوئی اُن کے نزدیک موضوع ۔ غرض بات یہ ہے کہ قرآن اور سنت اور حدیث تین مختلف چیزیں ہیں ۔ مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق حضرت اقدس کا ایک پرانا خواب اس کے بعد حضرت اقدس نے اپنا پرانا خواب مولوی محمد حسین صاحب کے متعلق بیان فرمایا جو کہ کتاب سراج منیر کے آخر میں درج ہے اور فرمایا کہ یہ بات ۹۴ ء یا ۹۵ ء کی ہے جب ہم نے یہ رویا دیکھا تھا کہ ہم نے جماعت کرائی ہے اور نماز عصر کا وقت ہے اور ہم نے قراءت پہلے بلند آواز سے کی ہے پھر ہم کو یاد آیا اور اس کے بعد ہم نے محمد حسین سے کہا کہ ہم خدا کے سامنے جائیں گے ہم چاہتے ہیں ہر بات میں صفائی ہوا اگر ہم نے آپ کے متعلق کچھ سخت الفاظ کہے ہوں تو آپ معاف کر دیں ۔ اس نے کہا میں معاف کرتا ہوں ۔ پھر ہم نے کہا کہ ہم بھی معاف کرتے ہیں ۔ پھر ہم نے دعوت کی اور اس نے عذر خفیف کے ساتھ اس دعوت کو قبول کر لیا۔ اور ایک شخص سلطان بیگ نام چبوترہ پر قریب الموت تھا اور ہم نے کہا کہ ایسا ہی مقدر تھا کہ اس کے مرنے کے وقت یہ واقعہ ہو اور ایسا ہی مقدر تھا کہ بہاء الدین کے مرنے کے وقت یہ بات ہو۔ اس خواب کے بعد فرمایا کہ وَاللهُ أَعْلَمُ بِالصَّوابِ خواب میں تعینات شخصیہ ضروری نہیں ۔ پھر حضرت اقدس نے مولوی محمد حسین صاحب کی ان دنوں کی حالت کا ذکر کیا۔ جب وہ بات بات میں خاکساری دکھاتے اور قدم قدم پر اخلاص رکھتے تھے اور جوتے اُٹھا کر جھاڑ کر آگے رکھتے تھے اور وضو کراتے تھے اور کہتے تھے کہ میں مولویت کو نہیں چاہتا۔ مجھے اجازت دو تو میں قادیان میں آ رہوں اور