ملفوظات (جلد 3) — Page 127
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۷ جلد سوم ہو مثلاً سلب امراض کا طریق ہے۔ جس پر ڈاکٹر ڈوئی اپنے اخبار میں لاف زنی کیا کرتا ہے کہ فلاں شخص اچھا ہو گیا اور فلاں نے صحت پائی۔ یہ طریق اس قسم کا ہے کہ اس کے لیے راستباز اور متقی ہونے کی بھی ضرورت نہیں۔ چہ جائیکہ یہ کسی کے مامور ہونے پر گواہ ہو سکے کیونکہ سلپ امراض کا طریق ہندوؤں ، یہودیوں، عیسائیوں میں یکساں پایا جاتا ہے اور مسلمانوں میں بھی بعض لوگ اس قسم کے پائے جاتے ہیں۔ حضرت مسیح جب سلب امراض کے معجزات دکھاتے تھے اس وقت بعض یہودی بھی اس قسم کے کام کرتے تھے اور ایک تالاب بھی ایسا تھا جس میں غسل کرنے سے بعض مریض اچھے ہو جاتے تھے۔ غرض حضرت حجۃ اللہ نے پہلے اس میں یہ ظاہر کیا ہے کہ جو امر مختلف قوموں میں مشترک ہے اور جس کے لیے نیک و بد کی کوئی تمیز نہیں صادق اور کاذب کی شناخت کا معیار نہیں ہو سکتا۔ پھر اس امر پر بحث کی ہے کہ اس کی ایک صورت ہے کہ کچھ بیمار لے کر بطور قرعہ اندازی صادق اور کا ذب کو تقسیم کر دیئے جاویں ایسی صورت میں صادق کے حصہ کے مریض بمقابلہ کا ذب زیادہ اچھے ہوں گے۔ اس امر کے بیان میں یہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اس طریق کو اپنے ملک میں اپنے مخالفوں کے سامنے میں نے پیش کیا ہے مگر کوئی مقابلہ کے لیے نہ آیا۔ پھر حضرت اقدس نے ڈوئی کی اس تحدی پر بحث کی ہے جو اس نے اپنے مخالفوں کے لیے کی ہے کہ میرے مخالف ہلاک ہو جائیں گے خصوصاً مسلمان ۔ حضرت حجۃ اللہ نے بڑے پر زور اور پر شوکت الفاظ میں لکھا ہے کہ گل مسلمانوں کو ہلاک کرنے کی کوئی ضرورت نہیں اور علاوہ ازیں یہ امر مشکوک ہو سکتا ہے۔ اس کو یہ کہنے کی گنجائش ہے کہ مسلمان ہلاک تو ہو ہی جائیں گے مگر پچاس یا ساٹھ سال کے اندر۔ اور وہ خود اس عرصہ میں ہلاک ہو جائے گا۔ پھر کون اس سے پوچھنے والا ہوگا۔ اس لیے بہتر ہے کہ سارے مسلمانوں کو چھوڑ کر میرے مقابلہ میں آئے اور میں عیسائیوں کے خود ساختہ خدا کی نسبت تمام مسلمانوں سے زیادہ کراہت اور نفرت رکھتا ہوں ۔ یہاں تک کہ اگر گل مسلمانوں کی نفرت عیسائیوں