ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 124 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 124

ملفوظات حضرت مسیح موعود فتوی مرتب کیا ہے۔ اله لد اس پر حضرت اقدس نے دریافت فرمایا کہ وجوہ کفر کیا ہیں؟ جلد سوم مولوی چکڑالوی کہتا ہے کہ حدیث کی کچھ ضرورت نہیں بلکہ حدیث کا پڑھنا ایسا ہے جیسا کہ کتے کو ہڈی کا چسکا ہو سکتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا درجہ قرآن کے لانے میں اس سے بڑھ کر نہیں جیسا کہ ایک چپڑاسی یا مذکوری کا درجہ پر دانہ سرکاری لانے میں ہوتا ہے۔ حضرت اقدس مسیح موعود نے فرمایا۔ ایسا کہنا کفر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑی بے ادبی کرتا ہے۔احادیث کو ایسی حقارت سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ کفار تو اپنے بتوں کے جنتر منتر کو یاد رکھتے ہیں تو کیا مسلمانوں نے اپنے رسول کی باتوں کو یاد نہ رکھا۔ قرآن شریف کے پہلے سمجھنے والے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی تھے اور اس پر آپ عمل کرتے تھے اور دوسروں کو عمل کراتے تھے ۔ یہی سنت ہے اور اسی کو تعامل کہتے ہیں اور بعد میں آئمہ نے نہایت محنت اور جانفشانی کے ساتھ اس سنت کو الفاظ میں لکھا اور جمع کیا اور اس کے متعلق تحقیقات اور چھان بین کی پس وہ حدیث ہوئی ۔ دیکھو! بخاری اور مسلم کو کیسی محنت کی ہے۔ آخر انہوں نے اپنے باپ دادوں کے احوال تو نہیں لکھے بلکہ جہاں تک بس چلا صحت وصفائی کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال یعنی سنت کو جمع کیا اور اکثر حدیثوں مثلاً بخاری کے پڑھنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس میں برکت اور نور ہے۔ جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ باتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلی ہیں ۔ مثلاً اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ کی حدیث کیسی صاف ظاہر کرتی ہے کہ مسیح تم میں سے ہوگا اور یہ عیسائیوں کا رڈ ہے کیونکہ عیسائی فخر کرتے تھے کہ عیسیٰ پھر آئے گا اور دین عیسوی کو بڑھائے گا لیکن آنحضرت رت نے نے سنایا سنا با کہ ہم نے اس کو آسمان پر دیگر فوت شدہ لو لوگوں میں دیکھا اور پھر فرمایا کہ جو آنے والا مسیح ہے وہ اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ہوگا ۔ غرض احادیث کے متعلق ایسا کلمہ نہیں بولنا چاہیے۔ ہاں اس معاملہ میں غلو بھی نہیں کرنا چاہیے کہ اس کو قرآن اور تعامل سے بڑھ کر سمجھا جائے بلکہ جو کچھ قرآن اور سنت کے مطابق حدیث میں ہو اس کو ماننا چاہیے کیونکہ جب حدیث کی کتا بیں نہ تھیں تب بھی لوگ نمازیں پڑھتے تھے اور تمام شعائر اسلام بجالاتے تھے۔ پس