ملفوظات (جلد 3) — Page 123
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۳ جلد سوم اور یہ سوال ہوا تھا قیامت میں تو اس کا یہ جواب نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بلکہ اُن کو تو یہ جواب دینا چاہیے تھا کہ ہاں بیشک میرے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعداً ٹھائے جانے کے بعد اُن میں شرک پھیل گیا تھا لیکن پھر دوبارہ جا کر تو میں نے صلیبوں کو توڑا، فلاں کافر کو مارا، اُسے ہلاک کیا ، اُسے تباہ کیا۔ نہ یہ کہ وہ یہ جواب دیتے وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيهِمُ (المائدة: ۱۱۸ ) اس جواب سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح کو ہرگز ہرگز خود دنیا میں نہیں آنا ہے اور یہ نض ہے اُن کے عدم نزول پر ۔ ۱۲ اگست ۱۹۰۲ء (بوقت شام) حضرت جرئی اللہ فی حلل الانبیاء علیہ الصلوۃ والسلام ادائے نماز کے بعد جلوس فرما ہوئے اور فرمایا کہ چونکہ یہ کتاب نزول المسیح تمام مسائل کی جامع کتاب بنانی چاہتا ہوں ۔ اس لیے میرا ارادہ ۔ ہے کہ ہمارے چند احباب میری کتابوں کے مضامین کی ایک ایک فہرست بنادیں تا کہ مجھے معلوم ہو جاوے کہ کون کون سے مضامین ان میں آچکے ہیں۔ اس کے بعد ایڈیٹر الحکم نے الحکم کا وہ نمبر پیش کیا جو ۲۴ / جولائی ۱۹۰۱ء کا چھپا ہوا ہے اور جس میں حضرت مولانا ۔ مولانا مولوی عبدال عبدالکریم صاحب نے ایک خط مولوی عبدالرحمن صاحب لکھو کے والے کے نام حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود کے ایما سے لکھا تھا اور جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ اگر تو حضرت اقدس کے بر خلاف نام لے کر کوئی الہام مخالف پیش کرے گا تو ہلاک ہو جاوے گا۔ غرض وہ مضمون ناظرین الحکم پڑھ چکے ہیں ۔ اعادہ کی ضرورت نہیں۔ اس کے بعد حضرت مولانا مولوی مولوی عبداللہ چکڑالوی کے خلاف وجوہ کفر عبدالکریم صاحب نے عرض کی کہ مولوی محمد حسین صاحب کا ایک رسالہ آیا ہے جس میں چینیاں والی مسجد میں قیامت کے عنوان سے آپ مقام پر لکھتا ہے کہ ہم نے ایک مضمون لکھا ہے جو مولوی ، جو مولوی عبداللہ چکڑالوی کے خلاف ہے۔ لکھتے لکھتے ایک مقام پر لک اس کو پرافٹ آف قادیان کے ساتھ ملاتے ہیں یعنی کفر کا فتوی دیتے ہیں چنانچہ اس کے نیچے پھر کفر کا