ملفوظات (جلد 3) — Page 122
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۲ جلد سوم پس میں اس بات کو خوب جانتا ہوں کہ انبیاء علیہم السلام کی حالت کیسی ہوتی ہے۔ جس دن نبی مامور ہوتا ہے اُس دن اور اُس کی نبوت کے آخری دن میں ہزاروں کوس کا فرق ہو جاتا ہے۔ پس یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسا کہا۔ ابراہیم تو وہ شخص ہے جس کی نسبت قرآن شریف نے خود فیصلہ کر دیا ہے اِبْراهِيمَ الَّذِي وَفي (النجم : ۳۸) وَ إِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِمَ رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَاتَهُنَّ (البقرة: ۱۲۵) پھر یہ اعتراض کس طرح پر ہو سکتا ہے۔ کیا ایک بچہ مثلاً مبارک (سَلَّمَهُ رَبُّه ) جو آج مکتب میں بٹھا یا جاوے وہ ایم اے یا بی اے کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح انبیاء کی بھی حالت ہوتی ہے کہ ان کی ترقی تدریجی ہوتی ہے۔ دیکھو! براہین احمدیہ میں باوجود یکہ خدا تعالیٰ نے وہ تمام آیات جو حضرت مسیح سے متعلق ہیں میرے لیے نازل کی ہیں اور میرا نام مسیح رکھا اور آدم، داؤد ، سلیمان غرض تمام انبیاء کے نام رکھے مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ میں ہی مسیح موعود ہوں جب تک خود اللہ تعالیٰ نے اپنے وقت پر یہ راز نہ کھول دیا۔ حواریوں نے جو اطمینان قلب چاہا ہے وہ ان سب نشانات کے بعد ہے جو وہ دیکھ چکے تھے اس لیے وہ اس اعتراض کے نیچے ہیں کہ ان کو ضرور شک تھا۔ کے بعد امریکہ آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَني نص ہے مسیح کے عدم نزول پر وار کا اور کتری مشہور کاذب اور ڈاکٹر ڈوئی کے اخبار کا خلاصہ برادر مفتی محمد صادق صاحب نے پڑھ کر سنایا۔ اُس کے سننے کے بعد حضرت حجۃ اللہ نے پھر ذکر کیا کہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي ( المائدة : ۱۱۸ ) سورۂ مائدہ کی آیت پر آج پھر غور کرتے ہوئے ایک نئی بات معلوم ہوئی اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت مسیح سے یہ سوال ہوا کہ کیا تو نے کہا تھا کہ مجھ کو اور میری ماں کو الہ بنالو تو وہ اپنی بریت کے لیے جواب دیتے ہیں کہ میں نے تو وہی تعلیم دی تھی جو تو نے مجھے دی تھی اور جب تک میں اُن میں رہا میں اُن کا نگران تھا اور جب تو نے مجھے وفات دے دی تو تو ان پر نگران تھا۔ اب صاف ظاہر ہے کہ اگر حضرت مسیح دوبارہ دنیا میں آئے تھے۔