ملفوظات (جلد 3) — Page 121
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۱ جلد سوم ہے کہ نزول مائدہ کی درخواست جب حواریوں نے کی تو وہاں صاف لکھا ہے قَالُوا نُرِيدُ أَنْ تَأْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَتَكُونَ عَلَيْهَا مِنَ الشَّهِدِينَ (المائدة : (۱۱۴) اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے پہلے جس قدر معجزات مسیح کے بیان کئے جاتے ہیں اور جو حواریوں نے دیکھے تھے ان سب کے بعد اُن کا یہ درخواست کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ اُن کے قلوب پہلے مطمئن نہ ہوئے تھے ورنہ یہ الفاظ کہنے کی اُن کو کیا ضرورت تھی وَ تَطْمَینَ قُلُوبُنَا وَنَعْلَمَ أَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا مسیح کی صداقت میں بھی اس سے پہلے کچھ شک ہی ساتھا اور وہ اس جھاڑ پھوک کو معجزہ کی حد تک نہیں سمجھتے تھے۔ اُن کے مقابلہ میں صحابہ کرام ایسے مطمئن اور قوی الایمان تھے کہ قرآن ۔ شریف نے ان کی نسبت رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ( البينة : ۹) فرمایا ۔ اور یہ بھی بیان کیا کہ اُن پر سکینت نازل فرمائی۔ یہ آیت مسیح علیہ السلام کے معجزات کی حقیقت کھولتی ہے۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت قائم کرتی ہے۔ صحابہ کا کہیں ذکر نہیں کہ اُنہوں نے کہا کہ ہم اطمینانِ قلب چاہتے ہیں بلکہ صحابہ کا یہ حال کہ اُن پر سکینت نازل ہوئی اور یہود کا یہ حال يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ (البقرة : ۱۴۷) ان کی حالت بتائی یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت یہاں تک کھل گئی تھی کہ وہ اپنے بیٹوں کی طرح شناخت کرتے تھے اور نصاریٰ کا یہ حال کہ ان کی آنکھوں سے آپ کو دیکھیں تو آنسو جاری ہو جاتے تھے ۔ یہ مراتب مسیح کو کہاں نصیب ! انبیاء تلامیذ الرحمن ہوتے ہیں ، اُن کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے اس پر عرض کیا گیا کہ حضور! حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی احیاء موتی کی کیفیت کے متعلق اطمینان چاہا تھا۔ کیا اُن کو بھی پہلے اطمینان نہ تھا ؟ فرمایا۔ اصل بات یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام اللہ تعالیٰ کے مکتب میں تعلیم پانے والے ہوتے ہیں اور تلامیذ الرحمٰن کہلاتے ہیں ۔ اُن کی ترقی بھی تدریجی ہوتی ہے۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے قرآن شریف میں آیا ہے كَذلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَثَلُتُهُ تَرْتِيلًا (الفرقان: ۳۳)