ملفوظات (جلد 3) — Page 120
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۲۰ جلد سوم کہف والا قصہ ہماری راہ میں نہیں ۔ اگر خدا تعالیٰ نے اُن کو سلایا ہو اور پھر جگایا ہو تو ہمارا کوئی حرج نہیں مسیح کی وفات سے اس کو کیا تعلق؟ مسیح کے لیے کہاں رقود آیا ہے۔ امام حسین پر میری فضیلت سن کر یونہی غصہ میں آتے ہیں۔ قرآن نے کہاں فضیلت کا مسئلہ امام حسین کا نام لیا ہے۔ زید کا ہی نام لیا ہے۔ اگر ایسی ہی بات تھی تو چاہیے تھا کہ حسین کا نام بھی لے دیا جاتا اور پھر مَا كَانَ مُحَمَّدٌ اَبَا اَحَدٍ مِنْ رِجَالِكُمْ (الاحزاب : ۴۱) کہہ کر اور بھی ابوت کا خاتمہ کر دیا ۔ اگر اِلَّا حُسَین کہہ دیا ہوتا تو شیعہ کا ہاتھ پڑ سکتا تھا۔ اصل یہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام ان باتوں سے لا پروا ہوتے ہیں ۔ اُن کی تمنا بھی یہ نہ تھی ، ورنہ اللہ تعالیٰ نبیوں کی تمنا بھی پوری کر دیتا ہے۔ قبل نماز ظہر حضرت اقدس سے دریافت کیا گیا کہ عیسائیوں کے ساتھ کھانا مخالفین سے معالق اور معانقہ کرنا جائز ہے یانہیں؟ فرمایا۔ میرے نزدیک ہرگز جائز نہیں یہ غیرت ایمانی کے خلاف ہے کہ وہ لوگ ہمارے نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں اور ہم اُن سے معانقہ کریں۔ قرآن شریف ایسی مجلسوں میں بیٹھنے سے بھی منع فرماتا ہے جہاں اللہ اور اس کے رسول کی باتوں پر ہنسی اُڑائی جاتی ہے اور پھر یہ لوگ اور خنزیر خور ہیں۔ اُن کے ساتھ کھانا کھانا کیسے جائز ہو سکتا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی کی ماں بہن کو گالیاں دے تو کیا وہ روا رکھے گا کہ اس کے ساتھ مل کر بیٹھے اور معانقہ کرے۔ پھر جب یہ بات نہیں، اللہ اور رسول کے دشمنوں اور گالیاں دینے والوں سے کیوں اس کو جائز رکھا ہے۔ بوقت شام) آنحضرت اور آپ کے صحابہ کی فضیلت مسیح اور اُن کے حواریوں پر بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام معمول کے موافق خدام کے حلقہ میں بیٹھ گئے اور فرمایا کہ قرآن شریف کے ایک مقام پر غور کرتے کرتے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بڑ اللہ علیہ وسلم کی بڑی عظمت اور کامیابی معلوم ہوئی۔ جس کے مقابل میں حضرت مسیح بہت ہی کمزور ثابت ہوتے ہیں۔ سورہ مائدہ میں