ملفوظات (جلد 3) — Page 119
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۹ جلد سوم اتلاف مد نظر نہ ہو بلکہ اپنی حق تلفی اور شر سے بچنا مقصود ہو تو یہ میرے نزدیک منع نہیں ہے اور میں اس کا نام رشوت نہیں رکھتا۔ کسی کے ظلم سے بچنے کو شریعت منع نہیں کرتی بلکہ لا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ (البقرة: ۱۹۶) فرمایا ہے۔ خان صاحب نواب خاں صاحب جاگیردار مالیر کوٹلہ نے خدا تعالیٰ کی آزمائش نہ کرو ایک فرض کا ر کیا کہ وہ رات کا اظہارکرتا ہے۔ مگر کا شخص کا ذکر کیا کہ وہ ارادت کا اظہار کرتا ہے۔ مگر چاہتا ہے۔مگر ہے کہ اس کی توجہ نماز کی طرف ہو جاوے۔ فرمایا کہ یہ لوگ خدا تعالیٰ سے ایسی شرطیں کیوں کرتے ہیں۔ پہلے خود کوشش کرنی چاہیے۔ قرآن شریف میں اِيَّاكَ نَعْبُدُ مقدم ہے۔ خدا تعالیٰ پر کسی کا حق واجب نہیں ۔ اگر وہ خود کوشش کرنا چاہتے ہیں تو مہینے تک یہاں آکر رہیں۔ خدا نے فرمایا ہے کُونُوا مَعَ الصَّدِقِينَ (التوبۃ: ۱۱۹) یہاں وہ نماز پڑھنے والوں کو دیکھیں گے، باتیں سنیں گے۔ خدا تعالیٰ تو غنی ہے۔ اگر ساری دنیا اُس کی عبادت نہ کرے تو اس کو کیا پروا ہے۔ ہزاروں موتیں انسان قبول کرے تو خدا کو خوش کر سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی آزمائش نہ کرو یہ اچھا طریق نہیں۔ حدیثیں دو قسم کی ہیں۔ اوّل وہ جو صراحة بلا تاویل ہماری محمد اور معاون ہیں ۔ جیسے حدیث إِمَامُكُمْ مِنْكُمْ ، فَأَمَّكُمْ مِنْكُمْ ، لَا مَهْدِيَ إِلَّا عِيسَی وغیرہ۔ اور دوم کچھ اس قسم کی ہیں جو ہمارے مخالف پیش کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض تو ایسی ہیں کہ ذراسی توجہ سے ان کا مضمون اور مفہوم ہمارے مطابق ہو جاتا ہے اور بعض بالکل محرف و مبدل قرآن شریف کے منشا کے خلاف اقوال مردودہ ہیں ۔ ہم اُن کو رد کر دیں گے۔ خدا تعالیٰ کی آواز تو ہمیشہ آتی ہے مگر مردوں کی نہیں آتی۔ اگر کبھی کسی مردے کی آواز آتی ہے تو خدا کی معرفت یعنی خدا تعالیٰ کوئی خبر ان کے متعلق دے دیتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ کوئی ہو خواہ نبی ہو یا صدیق یہ حال ہے کہ آنرا که خبر شد خبرش باز نیامد ۔ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان اور اہل و عیال کے درمیان ایک حجاب رکھ دیتا ہے۔ وہ سب تعلق قطع ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے فرمایا ہے فَلَا انْسَابَ بَيْنَهُمُ (المؤمنون: ۱۰۲)۔