ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 118 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 118

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۱۸ جلد سوم نہیں ملا۔ سچ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ کے اذن کے بغیر ہر ایک ذرہ جو انسان کے اندر جاتا ہے کبھی مفید نہیں ہو سکتا ۔ تو بہ واستغفار بہت کرنی چاہیے تا خدا تعالیٰ اپنا فضل کرے۔ جب خدا تعالیٰ کا فضل آتا ہے تو دعا بھی قبول ہوتی ہے۔ خدا نے یہی فرمایا ہے کہ دعا قبول کروں گا اور کبھی کہا کہ میری قضاء وقدر مانو۔ اس لیے میں تو جب تک اذن نہ ہولے کم امید قبولیت کی کرتا ہوں۔ بندہ نہایت ہی ناتوان اور بے بس ہے۔ پس خدا کے فضل پر نگاہ رکھنی چاہیے۔ چود ہری عبداللہ خان صاحب نمبر دار بہلول پور نے سوال کیا حکام اور برادری سے سلوک کر گام اور برادری سے کیا سلوک کرنا چاہیے؟ فرمایا۔ ہماری تعلیم تو یہ ہے کہ سب سے نیک سلوک کرو۔ حکام کی سچی اطاعت کرنی چاہیے کیونکہ وہ حفاظت کرتے ہیں ۔ جان اور مال اُن کے ذریعہ امن میں ہے اور برادری کے ساتھ بھی نیک سلوک اور برتاؤ کرنا چاہیے کیونکہ برادری کے بھی حقوق ہیں البتہ جو متقی نہیں اور بدعات و شرک میں گرفتار ہیں اور ہمارے مخالف ہیں ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی چاہیے تا ہم اُن سے نیک سلوک کرنا ضرور چاہیے۔ ہمارا اصول تو یہ ہے کہ ہر ایک سے نیکی کرو۔ جو دنیا میں کسی سے نیکی نہیں کر سکتا وہ آخرت میں کیا اجر لے گا۔ اس لیے سب کے لیے نیک اندیش ہونا چاہیے۔ ہاں مذہبی امور میں اپنے آپ کو بچانا چاہیے۔ جس طرح پر طبیب ہر مریض کی خواہ ہندو ہو یا عیسائی یا کوئی ہو غرض سب کی تشخیص اور علاج کرتا ہے۔ اسی طرح پر نیکی کرنے میں عام اصولوں کو مد نظر رکھنا چاہیے۔ اگر کوئی یہ کہے کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں کفار کو قتل کیا گیا تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ لوگ اپنی شرارتوں اور ایذا رسانیوں سے بہ سبب بلا وجہ قتل کرنے مسلمانوں کے مجرم ہو چکے تھے۔ ان کو جو سز املی وہ مجرم ہونے کی حیثیت سے تھی۔ محض انکار اگر سادگی سے ہو اور اس کے ساتھ شرارت اور ایذا رسانی نہ ہو تو وہ اس دنیا میں عذاب کا موجب نہیں ہوتا۔ رشوت ہر گز نہیں دینی چاہیے۔ یہ سخت گناہ ہے مگر میں رشوت کی یہ تعریف کرتا ہوں کہ رشوت جس سے گورنمنٹ یا دوسرے لوگوں کے حقوق تلف کیے جاویں۔ میں ا۔ میں اس سے سخت منع کرتا ہوں لیکن ایسے طور پر کہ بطور نذرانہ یا ڈالی اگر کسی کو دی جاوے جس سے کسی کے حقوق کے