ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 4 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 4

ملفوظات حضرت مسیح موعود لد جلد سوم پوچھا ہے کہ اگر تمہارا خدا ایسا ہی ہے جو دعاؤں کو سنتا ہے اور ان کے جواب دیتا ہے تو بتاؤ وہ کس سے بولتا ہے؟ تم جو یسوع کو خدا کہتے ہو پھر اس کو بلا کر دکھاؤ۔ میں دعوی سے کہتا ہوں کہ سارے عیسائی اکٹھے ہو کر بھی یسوع کو پکاریں وہ یقیناً کوئی جواب نہ دے گا ، کیونکہ وہ مر گیا۔ عیسائیوں کو ملزم کرنے کے واسطے اس سے بڑھ عیسائیوں کو ملزم کرنے والا سوال کر کوئی تیز ہتھیار نہیں ہے۔ ان سے پہلا سوال یہی ہونا چاہیے کہ کیا وہ ناطق خدا ہے یا غیر ناطق ؟ اگر غیر ناطق ہے تو اس کا گونگا ہونا ہی اُس کے ابطال کی دلیل ہے۔ لیکن اگر وہ ناطق ہے تو پھر اس کو ہمارے مقابل پر بلا کر دکھاؤ اور اس سے وہ بولیاں بلواؤ جن سے سمجھا جاتا ہے کہ وہ انسان کی مقدرت اور طاقت سے باہر ہیں یعنی عظیم الشان پیشنگوئیاں اور آئندہ کی خبریں۔ مگر وہ پیشگوئیاں اس قسم کی ہی نہیں ہونی چاہئیں جو یسوع نے خود اپنی زندگی میں کی تھیں کہ مرغ بانگ دے گا یا لڑائیاں ہوں گی قحط پڑیں گے بلکہ ایسی پیشگوئیاں جن میں قیافہ اور فراست کو دخل نہ ہو بلکہ وہ انسانی طاقت اور فراست سے بالاتر ہوں۔ میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ کوئی پادری یہ کہنے کی طاقت نہیں رکھ سکتا کہ خدائے قادر کے مقابلہ میں ایک عاجز اور ضعیف انسان یسوع کی اقتداری پیشگوئیاں پیش کر سکے۔ غرض یہ مسلمانوں کی بڑی خوش قسمتی ہے کہ ان کا خدا دعاؤں کا سننے والا ہے۔ کبھی ایسا اتفاق ہوتا ہے کہ ایک دعاؤں کے نتائج میں تاخیر اور توقف کی وجہ طالب نہایت رفت اور درد کے ساتھ دعائیں کرتا ہے مگر وہ دیکھتا ہے کہ ان دعاؤں کے نتائج میں ایک تاخیر اور توقف واقع ہوتا ہے۔ اس کا سر کیا ہے؟ اس میں یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ اول تو جس قدرا مور دنیا میں ہوتے ہیں ان میں ایک قسم کی تدریج پائی جاتی ہے۔ دیکھو! ایک بچہ کو انسان بننے کے لیے کس قدر مر حلے اور منازل طے کرنے پڑتے ہیں ایک بیچ کا درخت بننے کے لیے کس قدر توقف ہوتا ہے۔ اسی طرح پر اللہ تعالیٰ کے امور کا نفاذ بھی تدریجاً ہوتا ہے۔ دوسرے اس توقف میں یہ مصلحت الہی ہوتی ہے کہ