ملفوظات (جلد 3) — Page 5
ملفوظات حضرت مسیح موعود ♡ جلد سوم انسان اپنے عزم اور عقد : اور عقد ہمت میں پختہ ہو جاوے اور معرفت میں استحکام اور رسوخ ہو۔ یہ قاعدہ کی بات ہے کہ جس قدر انسان اعلیٰ مراتب اور مدارج کو حاصل کرنا چاہتا ہے اُسی قدر اس کو زیادہ محنت اور وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔ پس استقلال اور ہمت ایک ایسی عمدہ چیز ہے کہ اگر یہ نہ ہو تو انسان کامیابی کی منزلوں کو طے نہیں کر سکتا۔ اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ پہلے مشکلات میں ڈالا جاوے۔ إِنَّ مَعَ الْعُسْرِ يُسْرًا ( الم نشرح: ۷ ) اسی لیے فرمایا ہے۔ دنیا میں کوئی کامیابی اور راحت ایسی نہیں ہے جس کے ابتدا اور اول میں کوئی رنج اور مشکل نہ ہو۔ ہمت کو نہ ہارنے والے مستقل مزاج فائدہ اُٹھا لیتے ہیں اور کچے اور ناواقف راستہ میں ہی تھک کر رہ جاتے ہیں ۔ پنجابی میں کسی نے کہا ہے ۔ ایہو ہیگی کیمیا جے دن تھوڑے ہو پس جب خدا پرسچا ایمان ہو کہ وہ میری دعاؤں کو سننے والا ہے تو یہ ایمان مشکلات میں بھی ایک لذیذ ایمان ہو جاتا ہے اور غم میں ایک اعلیٰ یا قوتی کا کام دیتا ہے۔ ہموم وعموم کے وقت اگر انسان کو کوئی پناہ نہ ہو تو دل کمزور ہوتا جاتا ہے اور آخر وہ مایوس ہو کر ہلاک ہو جاتا اور خود کشی کرنے پر آمادہ ہوتا بلکہ بہت سے ایسے بد قسمت یورپ کے ملکوں میں خصوصاً پائے جاتے ہیں جو ذراسی نامرادی پر گولی کھا کر مر جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کا خود کشی کرنا خود ان کے مذہب کی موت اور کمزوری کی دلیل ہے۔ اگر اُس میں کوئی قوت اور طاقت ہوتی تو اپنے ماننے والوں کو ایسی یاس اور نامرادی کی حالت میں نہ چھوڑتا۔ لیکن اگر خدا تعالیٰ پر اُسے ایمان ہے اور اس قادر کریم ہستی پر یقین رکھتا ہے کہ وہ دعائیں سنتا ہے تو اس کے دل میں ایک طاقت آتی ہے۔ یہ دعا ئیں حقیقت میں بہت قابل قدر ہوتی ہیں اور دعاؤں والا آخر کار کامیاب حقیقت دعا ہو جاتا ہے ہاں یہ نادانی اور شو ادب ہے کہ انسان خدا تعالی کے ارادہ کے ساتھ لڑنا چاہے۔ مثلاً یہ دعا کرے کہ رات کے پہلے حصہ میں سورج نکل آوے اس قسم کی دعا ئیں گستاخی میں داخل ہوتی ہیں وہ شخص نقصان اُٹھاتا ہے اور ناکام رہتا ہے جو گھبرانے والا اور