ملفوظات (جلد 3) — Page 3
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۳ جلد سوم صرف فسق و فجور کی باتیں کرنے کے لیے اور مزہ چکھنے کے واسطے ہے۔ ان کی آنکھیں ہیں مگر وہ قدرت کا نظارہ نہیں دیکھ سکتیں بلکہ وہ بدکاری کے لیے ہیں۔ پھر ان کو خوشی اور راحت کہاں سے میٹر آتی ہے۔ یہ مت سمجھو کہ جس کو ھم و غم پہنچتا ہے وہ بد قسمت ہے۔ نہیں ۔ خدا اس کو پیار کرتا ہے۔ جیسے مرہم لگانے سے پہلے چیرنا اور جراحی کا عمل ضروری ہے اسی طرح خدا کی راہ میں ھم و غم آنا ضروری ہے۔ غرض یہ انسانی فطرت میں ایک امر واقع شدہ ہے جس سے اللہ تعالیٰ یہ ثابت کرتا ہے کہ دنیا کی حقیقت کیا ہے اور اس میں کیا کیا بلائیں اور حوادث آتے ہیں ۔ ابتلاؤں میں ہی دعاؤں کے عجیب و غریب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہیں اور سچ تو یہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہی سے پہچانا جاتا ہے۔ دنیا میں جس قدر قو میں ہیں مجیب اور بولنے والا خدا صرف اسلام پیش کرتا ہے کسی قوم نے ایسا خدا نہیں مانا جو جواب دیتا ہو اور دعاؤں کو سنتا ہو ۔ کیا ایک ہندو ایک پتھر کے سامنے بیٹھ کر یا درخت کے آگے کھڑا ہو کر یا بیل کے روبرو ہاتھ جوڑ کر کہہ سکتا ہے کہ میرا خدا ایسا ہے کہ میں اس سے دعا کروں تو یہ مجھے جواب دیتا ہے؟ ہر گز نہیں۔ کیا ایک عیسائی کہہ سکتا ہے کہ میں نے یسوع کو خدا مانا ہے وہ میری دعا کو سنتا اور اس کا جواب دیتا ہے؟ ہرگز نہیں ۔ بولنے والا خدا صرف ایک ہی ہے جو اسلام کا خدا ہے جو قرآن نے پیش کیا ہے۔ جس نے کہا اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُمْ (المؤمن : ۶۱) تم مجھے پکارو میں تم کو جواب دوں گا اور یہ بالکل سچی بات ہے۔ کوئی ہو جو ایک عرصہ تک سچی نیت اور صفائی قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتا ہو وہ مجاہدہ کرے اور دعاؤں میں لگار ہے۔ آخر اس کی دعاؤں کا جواب اُسے ضرور دیا جاوے گا ۔ قرآن شریف میں ایک مقام پر ان لوگوں کے لیے جو گوسالہ پرستی کرتے ہیں اور گوسالہ کو خدا بناتے ہیں آیا ہے اَلَّا يَرْجِعُ إِلَيْهِمُ قَوْلًا ( طه : ۹۰) کہ وہ اُن کی بات کا کوئی جواب اُن کو نہیں دیتا۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو خدا بولتے نہیں ہیں وہ گوسالہ ہی ہیں ۔ ہم نے عیسائیوں سے بارہا