ملفوظات (جلد 3) — Page 107
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۷ جلد سوم کا کام نہ تھا۔ کم از کم ہمارے مخالفوں کو بھی اتنا تو تسلیم کرنا پڑے گا کہ اس کی نیت نیک نہ تھی ورنہ کیا وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے اس کی تائید نہ کی اور اس کو مہلت نہ ملی کہ اس کو تمام کر لیتا۔ میرے اپنے الہام میں بھی یہ ہے وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۔ تیس برس سے زیادہ عرصہ ہوا جب میں تپ سے سخت بیمار ہوا۔ اس قدر شدید تپ مجھے چڑھی ہوئی تھی کہ گویا بہت سے انگارے سینے پر رکھے ہوئے معلوم ہوتے تھے۔ اس اثنائے میں مجھے الہام ہوا وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۔ یہ جو اعتراض کیا جاتا ہے کہ بعض مخالف ! مخالف اسلام بھی لمبی عمر حاصل کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے؟ میرے نزدیک اس کا سبب یہ ہے کہ اُن کا وجود بھی بعض رنگ میں مفید ہی ہوتا ہے۔ دیکھو! ابو جہل بدر کی جنگ تک زندہ رہا۔ اصل بات یہ ہے کہ اگر مخالف اعتراض نہ کرتے تو قرآن شریف کے تین سپارے کہاں سے آتے ۔ جس کے وجود کو اللہ تعالیٰ مفید سمجھتا ہے اسے مہلت دیتا ہے۔ ہمارے مخالف بھی جو زندہ ہیں اور مخالفت کرتے ہیں ان کے وجود سے بھی یہ فائدہ پہنچتا ہے که خدا تعالی قرآن شریف کے حقائق و معارف عطا کرتا ہے۔ اب اگر مہر علی شاہ اتنا شور نہ مچاتا تو نزول مسیح کیسے لکھا جاتا۔ اس طرح پر جو دوسرے مذاہب باقی ہیں ان کے بقا کا بھی یہی باعث ہے تا کہ اسلام کے اصولوں کی خوبی اور حسن ظاہر ہو۔ اب دیکھ لو کہ نیوگ اور کفارہ کے اعتقاد والے مذہب اگر موجود نہ ہوتے تو اسلام کی خوبیوں کا امتیاز کیسے ہوتا۔ غرض مخالف کا وجود اگر مفید ہو تو اللہ تعالیٰ اسے مہلت دیتا ہے۔ کے ۶ راگست ۱۹۰۲ء ۱۶ اگست کی شام کو حضرت مسیح موعود تشریف لائے۔ پیر گولڑی کی اس پرفن کارروائی کا ذکر تھا جو اس نے اپنی کتاب سیف چشتیائی کی تالیف میں کی ہے اور جس کا راز اگلی اشاعت میں بالکل کھول دیا جاوے گا اور دنیا کو دکھایا جاوے گا کہ کفن کھسوٹ مصنف بھی دنیا میں ہیں ۔ اس کے بعد امریکہ کے الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۱۱