ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 106 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 106

ملفوظات حضرت مسیح موعود ١٠٦ جلد سوم شدید ہوتے ہیں اور فنافی اللہ کے درجہ پر ہوتا ہے تو اس سے بسا اوقات خارقِ عادت معجزات صادر ہوتے ہیں جو اپنے اندر ایک قسم کی اقتداری قوت کا نمونہ رکھتے ہیں لوگ اپنی غلط نہی اور کمزوری سے یہ گمان کر بیٹھتے ہیں کہ شاید یہ خدا ہو۔ شہودی حالت میں اکثر امور ان کی مرضی کے موافق ہو جاتے ہیں جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فعلوں کو خدا تعالیٰ نے اپنا فعل قرار دیا ہے اور الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدۃ: ۴) اور إِذَا جَاءَ نَصُرُ الله (النصر : ۲) کی صدا آپ کو آگئی ۔ لے ۴ را گست ۱۹۰۲ء او ۴ راگست کی شام کو بعد نماز مغرب حضرت حجۃ اللہ حسب معمول تشریف فرما ہوئے ۔ خدام پروانہ وارارد گرد تھے۔ ایک نوجوان نے عرض کی کہ میں اپنا خواب بیان کرنا چاہتا ہوں ۔ فرمایا۔ کل صبح کو بیان کرو۔ مسنون طریق یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی صبح ہی کو خواب سنا کرتے تھے۔ اثنائے کلام میں اس امر پر تذکرہ ہوا کہ فیضی ساکن بھیں نے اعجاز لمسیح ایک زبردست نشان کا جواب لکھنا چاہا تھا جو خدا تعالیٰ کے وعدے کے موافق جو اعجاز لمسیح کے ٹائٹل پیچ پر درج ہے بامراد نہ ہو سکا بلکہ اس دنیا سے اُٹھ گیا۔ حضرت حجۃ اللہ نے فرمایا کہ یہ کس قدرز بر دست نشان ہے خدا کی طرف سے ہماری تصدیق اور تائید میں کیونکہ قرآن شریف میں آیا ہے وَ أَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ( الرّعد : ۱۸ ) اب سوال یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ سلسلہ جیسا کہ ہمارے مخالف مشہور کرتے ہیں خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں تھا تو چاہیے تھا کہ فیضی نے جولوگوں کی نفع رسانی کا کام شروع کیا تھا اس میں اس کی تائید کی جاتی لیکن اس طرح پر اس کا جوانا مرگ ہو جا نا صاف ثابت کرتا ہے کہ اس سلسلہ کی مخالفت کے لیے قلم اُٹھانا لوگوں کی نفع رسانی الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۲ ء صفحه ۷ ۸۰