ملفوظات (جلد 3) — Page 105
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۵ جلد سوم دراصل او پر شیشہ ہی ہے اسی طرح پر آفتاب کو روشنی اور ضیا بخشنے والی ایک اور زبردست طاقت ہے۔ اور یہ اعتراض جو کیا جاتا ہے کہ قرآن شریف غیریت اُٹھانے آیا تھا۔ اس کو وجودیوں نے سمجھا نہیں۔ قرآن شریف ایک اتحاد عام مسلمانوں میں قائم کرتا ہے نہ یہ کہ خالق اور مخلوق کو متحد فی الذات کر دے۔ نظائر کے بغیر تو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ پس ایسی کوئی مثال وجودی کو پیش کرنی چاہیے جس سے معلوم ہو جاوے کہ خالق اور مخلوق ایک ہی ہیں۔ انسان گناہ سے محبت کرتا ہے پھر وہ عین خدا کیوں کر ہو سکتا ہے۔ وجودی کہتے ہیں کہ تم نے غیریت سے شریک بنالیا۔ ہم کہتے ہیں یہ غلط ہے ہم تو مخلوق مانتے ہیں کوئی الگ خدا تو تجویز نہیں کرتے اور پھر مخلوق بھی ایسی مانتے ہیں جس پر سارا ہی تصرف خدا تعالیٰ کا ہے کیونکہ وہ حتی وقیوم خدا ہے جس کے سہارے سے زندگی قائم ہے۔ خدا تعالیٰ اس قسم کا حی و قیوم نہیں ہے کہ جیسے معمار کی عمارت کو ضرورت نہیں ہوتی کہ معمار اس کے ساتھ زندہ رہے یعنی اگر معمار مر جاوے تو عمارت کو اس کے مرنے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ مخلوق کسی صورت میں اس کے سہارے سے الگ ہو ہی نہیں سکتی بلکہ اور مخلوق کی زندگی اور قیام کا اصلی ذریعہ وہی ہے ۔ ہم عین غیر کی بحث میں ہر گز نہیں پڑتے۔ قرآن شریف نے ان اصطلاحوں کو کبھی بیان نہیں کیا۔ جو تعلقات خالق اور مخلوقات کے اُس نے بیان کیے ہیں ان سے باہر جانا گستاخی اور بے ادبی ہے۔ شیخ محی الدین سے پہلے اس وحدت وجود کا نام و نشان نہ تھا۔ ہاں وحدت شہودی تھی یعنی خدا تعالیٰ کے مشاہدہ میں اپنے آپ کو فانی سمجھنا۔ وحدت شہودی میں ”من تو شدم تو من شدی استیلائے محبت کا تقاضا تھا۔ وجودیوں نے اس سے تجاوز کر کے وہ کام کیا جو ڈاکٹر اور فلاسفر کرتے ہیں کہ وہ خدائی کے حصہ دار بنتے ہیں اور دیکھا گیا ہے کہ یہ وحدت وجود والے عموماً اباحتی ہوتے ہیں ۔ اور نماز وروزہ کی ہرگز پروانہیں کرتے یہاں تک کہ کنجروں ( کنچنوں ) کے ساتھ بھی تعلقات رکھتے ہیں۔ ان کو کوئی پر ہیز اور عذر نہیں ہوتا۔ شہود کی حقیقت تو یہی ہے کہ جیسے لوہے کو آگ میں ڈالا جاوے اور وہ اس قدر گرم ہو جاوے کہ شرخ آگ کی طرح ہو جاوے۔ اس وقت اگر چہ آگ کے خواص اس میں پائے جاتے ہیں تاہم وہ آگ نہیں کہلا سکتا۔ اسی طرح جس شخص کو خدا تعالیٰ سے تعلقات قوی اور