ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 104

ملفوظات حضرت مسیح موعود اولد جلد سوم استحالہ کے ساتھ اس کے صفات معدوم ہو جاتے ہیں۔ ہر ایک چیز کا بقا تو اس کے صفات ہی کے ساتھ ہے۔ اگر ایک پھول کے صفات اُس کے ساتھ نہیں تو وہ پھول کیوں کر ہو سکتا ہے۔ پس اگر انسان خدا ہے تو پھر اس کی خدائی کے صفات اس کے ساتھ ہونے ضروری ہیں۔ اگر صفات نہیں تو پھر نادانی سے اُسے خدا بنایا جاتا ہے۔ انسان ایسی ایسی مصیبتوں اور مشکلات میں گرفتار ہوتا ہے کہ ٹکریں مارتا پھرتا ہے اور ایسا سرگردان ہوتا ہے کہ کچھ پتہ نہیں لگتا ہزاروں آرزوئیں اور تمنائیں ایسی ہوتی ہیں کہ پوری ہونے میں نہیں آتیں۔ کیا خدا تعالیٰ کے ارادے بھی اس قسم کے ہوتے ہیں کہ پورے نہ ہوں ۔ اس کی شان تو یہ ہے اِذا ارادت إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ( ليس : ۸۳ ) - اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ جو انسان کو اپنے ارادوں میں نامراد کرتا ہے۔ وہ کوئی الگ اور طاقتور ہستی ہے اگر دونوں ایک ہوتے تو یہ نامرادی نہ ہونے پاتی۔ یہ باتیں قرآن شریف کی تعلیم کے صریح خلاف ہیں اور خدا تعا اور خدا تعالیٰ کے حضور خطرناک گستاخی کی باتیں ہیں ۔ اس فتس لی باتیں ہیں۔ اس قسم کے اعتراض کرنا کہ پھر دنیا کہاں سے بنائی۔ بے ادبی ہے۔ جب خدا تعالیٰ کو قادر مان لیا پھر ایسے اعتراض کیوں کیے جاویں۔ آریہ بھی اس قسم کے اعتراض کیا کرتے ہیں وہ خدا تعالیٰ کو اپنی قوت اور طاقت کے پیمانہ سے نا پنا چاہتے ہیں۔ پھر دیکھو وجودیوں کے بڑے بڑے صوفی مرے ہیں اور مرتے ہیں۔ اگر وہ خدا تھے تو ان کو تو اس وقت خدائی کا کرشمہ دکھانا چاہیے تھا نہ یہ کہ عاجز انسان کی طرح تڑپ کر جان دے دیتے ۔ یا د رکھو انسان کی سعادت یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں اپنا دخل نہ دے بلکہ اپنی عبودیت کا اعتراف کرے۔ ہمارا تو یہ ایمان اور مذہب ہے کہ ایک فوق الفوق قادر ہستی ہے جو ہم پر کام کرتی ہے۔ جدھر چاہتی ہے لے جاتی ہے۔ وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں ۔ وہ حی قیوم ہے اور ہم ایک عاجز مخلوق ۔ قرآن شریف میں جو حضرت سلیمان اور بلقیس کا ذکر ہے کہ اس نے پانی کو دیکھ کر اپنی پنڈلی سے کپڑا اُٹھایا اس میں بھی یہی تعلیم ہے جو حضرت سلیمان نے اس عورت کو دی تھی وہ دراصل آفتاب پرستی کرتی تھی ، اس کو اس طریق سے انہوں نے سمجھایا کہ جیسے یہ پانی شیشہ کے اندر چل رہا ہے