ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 103 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 103

ملفوظات حضرت مسیح موعود وہ زندہ ہے کہاں تک صحیح ہو سکتا ہے؟ ۱۰۳ جلد سوم رجوع کا لفظ صعود کے بعد ہوتا ہے پھر جو لوگ مسیح کے مع وجود عنصری آسمان پر چڑھنے کو ثابت کرتے ہیں ان کا فرض ہے کہ وہ مسیح کا رجوع ثابت کریں کیونکہ نزول کے لیے صعود لازم نہیں ہے۔ یث میں آیا ہے کہ صوم وصلوٰۃ سے درجہ نہیں ملتا بلکہ اس بات - اس بات سے جو انسان صدق و وفا کے دل میں ہے یعنی صدق و وفا۔ خدا یہی چاہتا ہے کہ عمل صالح ہو اور اس کا اخفاء ہو ریا کاری نہ ہو ۔ صدق بڑی چیز ہے اس کے بغیر عمل صالح کی تکمیل نہیں ہوتی ۔ خدا تعالیٰ اپنی سنت نہیں چھوڑتا اور انسان اپنا طریق نہیں چھوڑنا چاہتا۔ اس لیے فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا (العنكبوت : ٧٠) ۷) خدا تعالیٰ میں ہو کر جو مجاہدہ کرتا۔ ہو کر جو مجاہدہ کرتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ اپنی راہیں کھول دیتا ہے۔ بت پرست بھی وجودیوں کی طرح اپنے بتوں کو مظاہر ہی مانتے ہیں ۔ وحدت الوجود قرآن شریف اس مذہب کی تردید کرتا ہے۔ وہ شروع ہی میں یہ کہتا ہے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ اگر مخلوق اور خالق میں کوئی امتیاز نہیں بلکہ دونوں برابر اور ایک ہیں تو رَبِّ الْعَلَمِينَ نہ کہتا۔ اب عالم تو خدا تعالیٰ میں داخل نہیں ہے کیونکہ عالم کے معنے ہیں مَا يُعْلَمُ بِهِ اور خدا تعالیٰ کے لیے ہے لا تُدْرِكْهُ الْأَبْصَارُ (الانعام : ۱۰۴) ۔ موجودات کو جو وہ عین اللہ کہتے ہیں یہ بالکل غلط ہے۔ قرآن شریف نے عین اور غیر کی کوئی بحث نہیں کی، محی الدین ابن عربی سے جو منسوب کرتے ہیں کہ اس نے لکھا ہے کہ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي خَلَقَ الْأَشْيَاءَ وَهُوَ عَيْنُهَا یہ بات صحیح نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے لا تَقْفُ مَا لَيْسَ خداتع لك به علم ( بنی اسر آءیل: ۳۷) جب انسان کو کچھ بھی خبر نہیں پھر بتاؤ کہ غیب کہاں رہی۔ یہ تو پکی بات ہے کہ صفات کسی چیز کے اس سے الگ نہیں ہوتے خواہ وہ کہیں چلی جاوے۔ پانی کو خواہ لندن لے جاؤ آخر وہ پانی رہے گا۔ جب انسان خدا ہو تو اس کی صفات اس سے کیوں الگ ہونے لگیں خواہ کسی حالت میں ہو۔