ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 102 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 102

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۲ جلد سوم سچی بات ہے اس کو کبھی بھولنا نہیں چاہیے کہ جس نے نبی کی اطاعت کی اس نے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کر دیا۔ رسم اور عادت کی غلامی سے انسان اسی وقت نکل سکتا ہے جب وہ عرصہ دراز تک صادقوں کی صحبت اختیار کرے اور اُن کے نقش قدم پر چلے۔ یہ جو خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے مَا يَا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ النَّاسَ فَيَنَنْتُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: ۱۸) حقیقت یہی ہے کہ جو شخص دنیا کے لیے نفع رساں ہو اس کی عمر دراز کی جاتی ہے۔ اس پر جو یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر چھوٹی تھی ۔ یہ اعتراض صحیح نہیں ہے۔ اوّل اس لیے کہ انسانی زندگی کا اصل منشا اور مقصد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حاصل کر لیا۔ آپ دنیا میں اس وقت آئے جب کہ دنیا کی حالت بالطبع مصلح کو چاہتی تھی اور پھر آپ اُس وقت اُٹھے جب پوری کامیابی اپنی مصلح اور پھر رسالت میں حاصل کر لی۔ اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ (المائدة:۴) کی صدا کسی دوسرے آدمی کو نہیں آئی اور إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ وَ رَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ( النصر : ٢، ٣) پوری کامیابی کا نظارہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اب جس حال میں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پورے طور پر کامیاب ہو کر اُٹھے پھر یہ کہنا کہ آپ کی عمر تھوڑی تھی سخت غلطی ہے۔ اس کے علاوہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے برکات اور فیوض ابدی ہیں اور ہر زمانہ میں آپ کے فیوض کا دروازہ گھلا ہوا ہے ۔ اس لئے آپ کو زندہ نبی کہا جاتا ہے اور حقیقی حیات آپ کو حاصل ہے طول عمر کا جو مقصد تھا وہ حاصل ہو گیا اور اس آیت کے موافق آپ ابدالآباد کے لئے زندہ رہے۔ ۔ مسیح علیہ السلام کی وفات پر دوز بر دست گواہیاں مسیح علیہ السلام کی وفات کے دو گواہ علاوہ اور گواہوں کی شہادت کے موجود ہیں جن کا انکار ہرگز نہیں ہو سکتا۔ اوّل خدا تعالیٰ کی شہادت جس نے يُعِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ وَ رَافِعُكَ الی (ال عمران: ۵۶ ) فرمایا ہے اور پھر دوسری شہادت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رؤیت کی ہے۔ آپ نے یحییٰ علیہ علیہ السلام کے ساتھ حضرت مسیح کو دیکھا۔ اب ان دو گواہوں کے خلاف یہ کہنا ہے کہ