ملفوظات (جلد 3) — Page 101
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۱۰۱ جلد سوم ان ہی کے متعلق ہیں۔ اسی سبب سے یہودیوں کو ٹھوکر لگی اور خدا کے وعدوں کے مصداق اپنی ہی قوم کو سمجھ کر تمام قوموں سے بے تعلق اور غافل ہو گئے اور خدا کے وعدوں کے ایفاء کی آخری منزل اسی دنیا کو خیال کر کے قیامت سے بے خبر اور بہتیرے منکر ہو گئے ۔ فرمایا ۔ ہمت بلند ہونی چاہیے۔ چنانچہ لکھا ہے۔ ہمت بلند دار کہ دادار کردگار ۔ ان باتوں میں ہی اذان ہوگئی ۔ حضرت امام علیہ الصلوۃ والسلام نماز کے لیے اٹھے اور بعد نماز تشریف لے گئے ۔ انبیاء کی بعثت کی اصل غرض یہ ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ پر انبیاء کی بعثت کی اصل غرض ایسا ایمان پیدا کر یہ ایسا ایمان پیدا کریں جو اعمالِ صالحہ کی قوت عطا کرتا ہے اور گناہ سوز فطرت پیدا کرتا ہے کیونکہ اعمال صالحہ کبھی نہیں ہو سکتے ہیں جب تک اللہ تعالیٰ پر سچا ایمان اور معرفت پیدا نہ ہو۔ ہر ایک عمل معرفت صحیح اور عرفانِ کامل کے بعد اعمالِ صالحہ کی مد میں آتا ہے۔ لوگ جو کچھ اعمال صالحہ کرتے ہیں یا صدقات و خیرات کرتے ہیں یہ رسم اور عادت کے طور پر کرتے ہیں اُس معرفت کا نتیجہ نہیں ہوتے جو ایمان علی اللہ کے بعد پیدا ہوتی ہے۔ چونکہ دنیا کی نیکیاں اور بظاہر اعمال صالحہ رسم اور عادت کے طور پر ہوتے ہیں اور دنیا خدا شناسی اور خدارسی کے مقاموں سے دور ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ انبیاء علیہم السلام کو مبعوث فرماتا ہے جو آ کر دنیا کو خدا تعالیٰ پر ایمان لانے کی حقیقت سے آگاہ کرتے ہیں ۔ باقی تمام امور اسی ایمان کا نتیجہ ہوتے ہیں اس لیے اصل غرض انبیاء کے بعثت کی یہی ہوتی ہے کہ وہ انسان کو اس کی زندگی کے اصل منشا عبودیت تامہ سے آگاہ کریں اور خدا تعالیٰ پر عرفان بخش ایمان لانے کی تعلیم دیں۔ انبیاء علیہم السلام تھوڑے ہوتے ہیں اور اپنے اپنے وقت پر آیا کرتے كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ ہیں ۔ اس لیے اللہ تعالی نے تمام دنیا کو رسم اور عادت سے نجات دینے اور سچا اخلاص اور ایمان حاصل کرنے کی یہ راہ بتائی ہے کہ كُونُوا مَعَ الصُّدِقِينَ (التوبة: ١١٩ ) ۔ یہ الحکم جلد ۶ نمبر ۲۸ مورخه ۱۰ اگست ۱۹۰۲ء صفحه ۹، ۱۰