ملفوظات (جلد 3) — Page 100
ملفوظات حضرت مسیح موعود ہو جاتے ہیں اور ختم نہیں ہوتے ۔ حضرت حجۃ اللہ نے ہنس کر فرمایا۔ ۱۰۰ جلد سوم یہ عجیب حساب ہے جو سمجھ میں نہیں آتا کہ اس کا کیا نام رکھا جاوے۔ اربعہ ہے یا کیا کہ جس قدر کم ہوتے جاویں وہ بڑھتے جاویں حضرت اقدس نے ضمنا ایڈیٹر الحکم سے خطاب کر کے اشاعت السنۃ کے متعلق دریافت فرمایا کہ ابھی شائع ہوا یا نہیں۔ عرض کی گئی کہ اشتہار اشاعت کے بعد کچھ معلوم نہیں ہوا۔ اسی کے ضمن میں دہلی کے ایک پنجابی کا تب والے اخبار کا ذکر ایڈیٹر نے کیا کہ اس میں ایک نوٹ لکھ کر گو یا ۱۸ مختلف مقامات پر نالش کی دھمکی دی ہے۔ پھر ماسٹر عبدالرحمن صاحب نے ایک رؤیا ہمت اور استعداد کے مطابق ہوتی ہے لڑکے کا خواب جلایا۔ حضرت اقدسن نے فرمایا کہ ہر شخص کی خواب اس کی ہمت اور استعداد کے موافق ہوتی ہے۔ معبرین نے یہی لکھا ہے۔ ضمناً میاں جان محمد صاحب مرحوم امام مسجد قادیان کی ایک رؤیا کا تذکرہ فرمایا۔ پھر فرمایا۔ خدا تعالیٰ کا فیضان ظرف اور استعداد کے موافق ہوتا ہے۔ خدا تو ایک ہی ہے۔ لیکن جیسے روشنی صاف اور روشن چیز پر جیسے شیشہ ہے بہت صفائی سے پڑتی ہے اسی طرح پر خدا تعالیٰ کے فیضان کا حال ہے۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمت بہت ہی بلند تھی اس لیے قرآن شریف جیسا کلام آپ پر نازل ہوا۔ قرآن شریف میں خدا تعالیٰ کی صاف تصویر نظر آتی ہے۔ اور اور کتابوں میں دھندلی سی روشنی پڑتی ہے۔ مسیح ہی کو دیکھ لو کہ اسرائیل کی قوم پیش نظر ہے۔ مگر قرآن شریف کسی خاص قوم کو خطاب نہیں کرتا ۔ شروع ہی سے الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ (الفاتحة: ۲) کہتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیسی بلند ہمت اور عام دعوت ہے کہ کہتے ہیں يَاأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعًا (الاعراف: ۱۵۹) مگر انجیل میں اسرائیل ہی کا ذکر ہے جو پیشگوئیاں ہیں وہ بھی