ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 99 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 99

ملفوظات حضرت مسیح موعود فصیح و بلیغ عبارت میں لکھنا قریب محال ہے۔ ۹۹ فرمایا ۔ یہی تو معجزہ قرآن شریف کا ہے۔ پھر اسی سلسلہ کلام میں فرمایا کہ جلد سوم فیصلہ کی کیسی آسان راہ تھی ۔ یہ جو مشہور کرتے ہیں کہ گولڑی کے مقابلے میں لاہور نہ آئے۔ ہم نے کہا تھا کہ تفاؤل کے طور پر قرآن کہیں سے کھول کر اس کی تفسیر بالمقابل لکھنی چاہیے۔ اس کا جواب اس وقت گولڑی نے یہ دیا کہ پہلے عقائد پر تقریر کر کے مولوی محمد حسین کا فیصلہ مان لو۔ اگر وہ کہہ دے کہ یہ عقیدہ غلط ہے تو معاً میرے ہاتھ پر بیعت کر لو۔ پھر تفسیر لکھ لو ۔ اب بتاؤ یہ کیا فیصلہ ہوا۔ اس پر کہتے ہیں کہ لاہور نہیں آئے حضرت حکیم الامت نے سید علی حائری لاہوری شیعہ کے رسالہ کا ذکر کیا کہ اس میں حضرت امام حسین کی فضیلت پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بارہ امام نورا الہی سے پیدا ہوئے تھے۔ جس کا ظاہری ثبوت یہی ہے کہ ان کا سایہ نہ تھا۔ پس جبکہ وہ نور الہی سے بنے تھے تو پھر ان پر کسی کو فضیلت کیسی ! اور پھر لکھا ہے کہ قرآن شریف کی چودہ منزلیں ہیں ۔ یہ تقسیم اپنے طور پر کی ہے کہ لوح محفوظ پر آیا۔ پھر جبرائیل کے پاس، علیٰ ہذا القیاس۔ اس پر حضرت حجتہ اللہ نے فرمایا کہ کیا چودھویں منزل یہ نہیں لکھی کہ آخر حضرت عثمان کے پاس محرف مبدل ہو گیا۔ چودھویں منزل تو ان کے اعتقاد کے موافق یہی ہوگی نہ۔ اور مدینہ منورہ سے کربلا ۱۴ منزل ہیں۔ اس سے حضرت حسین کی فضیلت قرآن سے ثابت ہو گئی ۔ غرض اس قسم کے لغویات اس میں بھرے ہیں۔ اور ایک جگہ باپ کی کتاب ہی ثبوت کے لیے کافی قرار دے دی ہے۔ اور ایک مقام پر لکھا ہے کہ غایت المقصود پڑھ کر اتنے ہزار مرزائی مومن ہو گئے ۔ اس پر مفتی محمد صادق صاحب نے عرض کی کہ گولڑی کہتا ہے کہ میری کتاب پڑھ کر اتنے ہزار نے تو بہ کی یہ عجیب بات ہے کہ ایک طرف تو تعداد کم بتاتے ہیں اور پھر ہزاروں نکل کر ان میں بھی شامل