ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 535 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 535

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۳۵ ترجمه فارسی از صفحه نمبر ۲۱۹ ۲۲۰ ۲۲۹ ۲۵۵ ۲۵۵ ۲۵۶ جلد دوم اگر چہ محبوب تک رسائی پانے کا کوئی ذریعہ نہ ہو پھر بھی عشق کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی تلاش میں جان لڑا دی جائے۔ تنور ( پر سونے والی رات بھی گزر گئی اور سمور ( پہن کر سونے ) والی رات بھی گزر گئی۔ وقت ایسے گزارتے کہ کبھی تو جبرائیل و میکائیل کے ساتھ ہوتے اور کبھی حفصہ وزینب مورد توجہ ہوتیں ۔ کسی نے اس ( یعقوب ) سے جس کا بیٹا گم ہو گیا تھا پوچھا ، کہ اے روشن ضمیر دانا بزرگ ۔ تو نے ملک مصر سے تو گرتے کی بو سونگھ لی لیکن یہیں کنعان کے کنوئیں میں اسے کیوں نہ دیکھا۔ ہر آزمائش جو خدا نے اس قوم کے لئے مقدر کی ہے اس کے نیچے رحمتوں کا خزانہ چھپا رکھا ہے۔ وہ نماز دوزخ کے دروازہ کی چابی ہے جو تو لوگوں کو دکھانے کے لئے دراز کرتا ہے۔ صبا پھول کو دیکھ کر شرمندہ ہوتی ہے کہ اس نے پھول کو کھلا تو دیا لیکن اسے لپیٹنے کی طاقت نہیں رکھتی ۔ ترک دنیا ، پرہیز گاری اور صدق وصفا کے لئے ضرور کوشش کر ، مگر مصطفی کے بتائے ہوئے طریقوں ) سے تجاوز نہ کر۔ میں تو بن گیا تو میں بن گیا میں تن بنا تو جان بن گیا ۔ تا بعد میں کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ میں کوئی اور ہوں اور تو کوئی اور ہے۔ ۲۷۳ ۲۸۱ ۲۸۷ ۲۸۸