ملفوظات (جلد 2) — Page 530
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۳۰ جلد دوم فرمایا تھا روحانی اُمور کو وہی دریافت کرتے ہیں جن میں مناسبت ہو۔ چونکہ ان میں مناسبت نہ تھی ہا اس لیے اُنہوں نے عصائے دین کو کھا لیا ۔ جیسے سلیمان کے عصا کو کھا لیا تھا۔ اور اس سے آگے قرآن شریف میں لکھا ہے کہ جب جنوں کو یہ پتہ لگا تو اُنھوں نے سرکشی اختیار کی ہے۔ اسی طرح پر عیسائی قوم نے جب اسلام کی یہ حالت دیکھی یعنی اس دَابَّةُ الْأَرْضِ نے عصائے راستی کو کمزور کر دیا تو ان قوموں کو اس پر وار کرنے کا موقع دے دیا۔ جن وہ ہیں جو چھپ کر وار کرے اور پیار کے رنگ میں دشمنی کرتے ہیں وہی پیار جو حوا سے آکر نگاش نے کیا تھا اس پیار کا انجام وہی ہونا چاہیے جو ابتدا میں ہوا۔ آدم پر اسی سے مصیبت آئی ۔ اُس وقت گویا وہ خدا سے بڑھ کر خیر خواہ ہو گیا۔ اسی طرح پر یہ بھی وہی حیات ابدی پیش کرتے ہیں جو شیطان نے کی تھی ، اس لیے قرآن شریف نے اول اور آخر کو اسی پر ختم کیا۔ اس میں یہ سر تھا کہ تا بتایا جاوے کہ ایک آدم آخر میں بھی آنے والا ہے قرآن شریف کے اول یعنی سورۃ فاتحہ کو ولا الضالین پر ختم کیا ۔ یہ امر تمام مفسر با اتفاق مانتے ہیں کہ ضالین سے عیسائی مراد ہیں اور آخر جس پر ختم ہوا وہ یہ ہے قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ - مَلِكِ النَّاسِ ۔ الهِ النَّاسِ - مِنْ شَرِّ الْوَسْوَاسِ الْخَنَّاسِ - الَّذِي يُوَسْوِسُ فِي صُدُورِ النَّاسِ - مِنَ الْجِنَّةِ والنَّاسِ ( الناس : ۲ تا ۷ ) ۔ سورۃ الناس سے ۔ پہلے قُلْ هُوَ اللهُ (الاخلاص: ۲ تا ۷) میں خدا تعالیٰ کی توحید بیان فرمائی اور اس طرح پر گویا تثلیث کی تردید کی اس کے بعد سورۃ الناس کا بیان کرنا صاف ظاہر کرتا ہے کہ عیسائیوں کی طرف اشارہ ہے۔ پس آخری وصیت یہ کی کہ شیطان سے بچتے رہو، یہ شیطان وہی نتاش ہے جس کو اس سورۃ میں خناس کہا ہے جس سے بچنے کی ہدایت کی اور یہ جو فرمایا کہ رب کی پناہ میں آؤ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ جسمانی امور نہیں ہیں بلکہ روحانی ہیں ۔ خدا کی معرفت اور معارف اور حقا اور حقائق پر پکے ہو جاؤ تو اس سے بچ جاؤ گے ۔ اس آخری زمانہ میں شیطان اور آدم کی آخری جنگ کا خاص ذکر ہے شیطان کی لڑائی خدا اور اس کے فرشتوں سے آدم کے ساتھ ہو کر ہوتی ہے۔ اور خدا تعالیٰ اس کے ہلاک کرنے کو پورے سامان کے ساتھ اُترے گا اور خدا کا مسیح اس کا مقابلہ کرے گا۔ یہ لفظ شیح ہے جس کے