ملفوظات (جلد 2) — Page 531
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۳۱ جلد دوم معنی خلیفہ کے ہیں عربی اور عبرانی میں ، حدیثوں میں مسیح لکھا ہے اور قرآن شریف میں خلیفہ لکھا ہے۔ غرض اس کے لیے مقدر تھا کہ اس آخری جنگ میں خاتم الخلفاء جو چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہو کامیاب ہو۔ سورۃ العصر میں دنیا کی تاریخ سورۃ العصر میں دنیا کی تاریخ موجود ہے ر ہے جس پر خدا تعالیٰ نے اپنے الہام سے مجھ کو اطلاع دی ہے اور یہ اصلی اور سچی تاریخ ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کس قدر زمانہ گزرا ہے، پس اس حساب سے اب ساتویں ہزار سے کچھ سال گزر گئے ہیں اور خاتم الخلفاء چھٹے ہزار کے آخر میں پیدا ہوا تا که اول را بآخر نسبتی دارد کا مصداق ہو۔ آدم بھی چھٹے دن پیدا ہوا تھا اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کا ہوتا ہے اس چھ دن کے چھ ہزار ہوئے اور پھر آدم کی پیدائش چھٹے دن کے آخر میں ہوئی تھی اس لیے خاتم الخلفاء چھٹے ہزار کے آخر میں ہوا اور ساتویں میں جنگ ہے۔ حق اور باطل کی آخری جنگ اس جنگ سے توپ و تفنگ کی لڑائی مراد نہیں بلکہ یہ عیسائیت اور الہی دین کی آخری جنگ ہے۔ عیسائیت نے زمینی خدا بنالیا ہے اور یہ وہی خدا یا خیالی خدا ہے جیسے بہت سی عورتیں ایک وہمی حمل رجا کا کر لیتی ہیں یہاں تک کہ پیٹ میں وہمی طور پر حرکت بھی معلوم ہوتی ہے اور پیٹ بڑھتا بھی ہے۔ اس طرح پر فرضی مسیح بنالیا گیا ہے جسے خدا سمجھا گیا ہے۔ غرض سچے مسیح کے مقابل وہ کھڑا ہے اب یہ لڑائی ان دونوں میں شروع ہے اور خدا اس میں اپنا چمکتا ہوا ہاتھ دکھلائے گا۔ چالیس کروڑ سے بھی زائد انسان عیسائی ہو چکے ہیں جب اوّل ہی اوّل یہ لوگ آئے تو مولوی ان کے حملوں اور اعتراضوں سے محض نا واقف تھے اُن کو پورا علم نہ اُن کے اعتراضوں کا تھا اور نہ قرآن شریف کے حقائق ہی سے آگاہ تھے، برخلاف اس کے عیسائیوں کے پاس اقبال اور تالیف قلوب کے ذریعے تھے ، اس لیے اُن کی ترقی ہوتی گئی مگر اب اُن میں ایک بھی نہیں جو اس کے تنزل کو دیکھ سکے اب ان کا دور ختم ہونے والا ہے اور مختصر طور پر جعلی فرضی خدا کو سمجھ لیں گے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ عیسائیوں کا تانا بانا آریہ اور سناتن سے بھی بودہ ہے کیونکہ اُنہوں نے ساری بنیاد حیات مسیح پر رکھی ہوئی ہے اس