ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 529 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 529

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲۹ جلد دوم میں نہ آئے دریافت کریں۔ اگر بعض معارف سمجھ نہ سکے تو دوسروں سے دریافت کر کے فائدہ پہنچائے۔ قرآن شریف ایک دینی سمندر ہے جس کی تہہ میں بڑے بڑے نایاب اور بے بہا گو ہر موجود ہیں۔ جب تم کسی عیسائی سے ملو گے تو دیکھو گے کہ اُن میں نقالوں اور ٹھٹھے والوں کی طرح دیانت مفقود نظر آئے گی۔ یوں تو ان میں سے بعض ایسے ہیں جو یہ دعوے کرتے ہیں کہ ہم قرآن شریف کے ترجمہ سے واقف ہیں ۔ مگر انہوں نے مشق تو کی ہے لیکن ان میں روحانیت نہیں ہے اور اس کا ہمیں بارہا تجربہ ہوا ہے جب ان کو بلایا گیا تو اُنہوں نے گریز کی ہے۔ اگر واقعی ان میں روحانیت ہے اگر واقعی ان کی معرفت اور علم یقین کے درجہ تک پہنچا ہوا ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ وہ گریز کرتے ہیں۔ دیکھو ! لاہور کے بشپ صاحب نے لاہور میں بڑے اہم مضامین لاہور کے بشپ کا فرار پر لکچر دیئے اور اپنی قرآن دانی اور حدیث دانی کے ثبوت کے لیے بڑی کوشش کی لیکن اُسے ہم نے دعوت کی تو باجود یکہ پایونیر نے بھی اس کو شرمندگی دلائی مگر وہ صرف یہ کہہ کر کہ ہمارا دشمن ہے مقابلہ سے بھاگ گیا۔ ہم کو افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ بشپ صاحب تو مسیح کی تعلیم کا کامل نمونہ ہونا چاہیے تھا اور اپنے دشمنوں کو پیار کرو پر ان کا پورا عمل ہوتا اگر میں ان کا دشمن بھی ہوتا حالانکہ میں سچ کہتا ہوں اور خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ نوع انسان کا سب سے بڑھ کر خیر خواہ اور دوست میں ہوں ۔ ہاں یہ سچ ہے کہ میں ان تعلیمات کا دشمن ہوں جو انسان کی روحانی دشمن ہیں اور اس کی نجات کی دشمن ہیں۔ غرض بشپ صاحب کو کئی بار اخباروں نے اس معاملہ میں شرمندہ کیا مگر وہ سامنے نہ آئے ۔ عیسائیوں کی یہ حالت ہے کہ اگر کسی کو سادہ دیکھتے ہیں تو چھوٹا ہے تو بیٹا بنا کر اور بڑا ہے تو باپ بنا کر اندر داخل ہوتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اگر وہ حالات سے واقف ہے تو پھر اس سے بغض کرتے ہیں اس لیے کہ جب خدا سے تعلق توڑ بیٹھتے ہیں تو مخلوق سے سچی ہمدردی کیونکر پیدا ہو مگر ہماری جماعت خاص ہے اس کو عام مسلمانوں کی طرح نہ سمجھیں۔ جو آسمان سے آتا ہے ۔ جو زمینی بات کرتا ہے وہ دَابَّةُ الْأَرْضِ ہے۔ خدا تعالیٰ نے ایسا ہی دَابَّةُ الْأَرْضِ اَرْضِ یہ مسلمان دَابَّةُ الْأَرْضِ ہیں اور اس لیے اس کے مخالف ہیں جو