ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 528 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 528

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲۸ جلد دوم سے تمہیں کیا فائدہ ہوا۔ تمہارے یقین اور معرفت میں قوت کیونکر پیدا ہو گی ۔ ذرا ذراسی بات پر ۔ ذراذراسی شکوک اور شبہات پیدا ہوں گے اور آخر قدم کو ڈگمگا جانے کا خطرہ ہے ۔ دین کو ہر حال میں دنیا پر مقدم کرنا چاہیے دیکھوا دوقسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ ایک تو وہ جو اسلام قبول کر کے دنیا کے کاروبار اور تجارتوں میں مصروف ہو جاتے ہیں ۔ شیطان ان کے سر پر سوار ہو جاتا ہے۔ میرا یہ مطلب نہیں کہ تجارت کرنی منع ہے۔ نہیں صحابہ تجارتیں بھی کرتے تھے مگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے تھے، انہوں نے اسلام قبول کیا تو اسلام کے متعلق سچا علم جو یقین سے اُن کے دلوں کو لبریز کر دے انہوں نے حاصل کیا۔ یہی وجہ تھی کہ وہ کسی میدان میں شیطان کے حملے سے نہیں ڈگمگائے۔ کوئی امر ان کو سچائی کے اظہار سے نہیں روک سکا۔ میرا مطلب اس سے صرف یہ ہے کہ جو بالکل دنیا ہی کے بندے اور غلام - ہو جاتے ہیں گو یا دنیا کے پرستار ہو جاتے ہیں ایسے لوگوں پر شیطان اپنا غلبہ اور قابو پالیتا ہے۔ دوسرے وہ لوگ ہو ۔ ے وہ لوگ ہوتے ہیں جود جو دین کی ترقی کی فکر میں ہو جاتے ہیں ۔ یہ وہ گروہ ہوتا ہے جو حزب اللہ کہلاتا ہے اور جو شیطان اور اس کے لشکر پر فتح پاتا ہے مال چونکہ تجارت سے بڑھتا ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے بھی طلب دین اور ترقی دین کی خواہش کو ایک تجارت ہی قرار دیا۔ چنانچہ فرمایا ہے هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (الصف: 11) سب سے عمدہ تجارت دین کی ہے جو دردناک عذاب سے نجات دیتی ہے، پس میں بھی خدا تعالیٰ کے ان ہی الفاظ میں تمہیں یہ کہتا ہوں که هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى تِجَارَةٍ تُنْجِيكُم مِّنْ عَذَابٍ أَلِيمٍ (الصف: (١) ۔ میں زیادہ اُمیدان پر کرتا ہوں جو دینی ترقی اور شوق کو کم نہیں کرتے ۔ جو اس شوق کو کم کرتے ہیں مجھے اندیشہ ہوتا ہے کہ شیطان ان پر قابو نہ پالے۔ اس لیے کبھی سست نہیں ہونا چاہیے ۔ ہر امر کو جو سمجھ میں نہ آئے پوچھنا چاہیے تا کہ معرفت میں زیادت ہو ۔ پوچھنا حرام نہیں بہ حیثیت انکار کے بھی پوچھنا چاہیے اور علمی ترقی کے لیے بھی۔ جو علمی ترقی چاہتا ہے اس کو چاہیے کہ قرآن شریف کو غور سے پڑھیں جہاں سمجھ