ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 527 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 527

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۲۷ جلد دوم ہے۔ غرض یہ خدا تعالیٰ کے نشان ہیں ، ان کو عزت اور عبرت کی نگاہ سے دیکھو اور اپنی ساری قوتوں کو خدا تعالیٰ کی مرضی کے نیچے استعمال کرو ۔ توبہ اور استغفار کرتے رہو تا خدا تعالیٰ اپنا تم پر فضل کرے۔ ۲۸ / دسمبر ۱۹۰۱ء مرشد اور مرید کے تعلقات استاد اور شاگرد کی مثال سے سمجھ مرشد اور مرید کے تعلقات لینے چاہئیں۔ جیسے شاگرد استاد سے فائدہ اٹھاتا ہے اس طرح مرید اپنے مرشد سے لیکن شاگرد اگر اُستاد سے تعلق تو رکھے مگر اپنی تعلیم میں قدم آگے نہ بڑھائے تو فائدہ نہیں اُٹھا سکتا۔ یہی حال مرید کا ہے پس اس سلسلہ میں تعلق پیدا کر کے اپنی معرفت اور علم کو بڑھانا چاہیے۔ طالب حق کو ایک مقام پر پہنچ کر ہر گز ٹھہر نا نہیں چاہیے ورنہ شیطان لعین اور طرف لگا دے گا اور جیسے بند پانی میں عفونت پیدا ہو جاتی ہے اسی طرح اگر مومن اپنی ترقیات کے لیے سعی نہ کرے تو وہ گر جاتا ہے پس سعادت، عادت مند کا فرض ہے وہ طلب دین میں لگا ر ہے ۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کوئی انسان کامل دنیا میں نہیں گزرا لیکن آپ کو بھی رَبِّ زِدْنِی علما (طہ: ۱۱۵) کی دعا کی تعلیم ہوئی تھی پھر اور کون ہے جو اپنی معرفت اور علم پر کامل بھروسہ کر کے ٹھہر جاوے اور آئندہ ترقی کی ضرورت نہ سمجھے ۔ جوں جوں انسان اپنے علم اور معرفت میں ترقی کرے گا اُسے معلوم ہوتا جاوے گا کہ ابھی بہت سی باتیں حل طلب باقی ہیں بعض امور کو ابتدائی نگاہ میں ( اس بچے کی طرح جو اقلیدس کے اشکال کو محض بیہودہ سمجھتا ہے ) بالکل بیہودہ سمجھتے تھے لیکن آخر وہی امور صداقت کی صورت میں ان کو نظر آئے اس لیے کس قدر ضروری ہے کہ اپنی حیثیت کو بدلنے کے ساتھ ہی علم کو بڑھانے کے لیے ہر بات کی تکمیل کی جاوے تم نے بہت ہی بیہودہ باتوں دے ہم نے بہت ہی بیہودہ بالوں کو چھوڑ کر اس سلسلہ کو قبول کیا ہے۔ اگر تم اس کی بابت پورا علم اور بصیرت حاصل نہیں کرو گے تو اس کر کوقبول ہے۔ اگرتم کی اور الحکم جلد ۶ نمبر ۱۹ مورخه ۲۴ رمئی ۱۹۰۲ ء صفحه ۵ تا ۷