ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 517 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 517

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۱۷ جلد دوم حقیقی مسلمان اللہ تعالیٰ سے پیار کرتا ہے یہ کہہ کر اور مان کر کہ وہ میرا محبوب و مولا پیدا کرنے والا اور محسن ہے اس لیے اُس کے آستانہ پر سر رکھ دیتا ہے۔ سچے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میں کچھ بھی نہیں ملے گا اور نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے اور نہ آرام ہیں نہ لذات ہیں تو وہ اپنے اعمال صالحہ اور محبت الہی کو ہرگز ہرگز چھوڑ نہیں سکتا کیونکہ اس کی عبادات اور خدا تعالیٰ سے تعلق اور اُس کی فرمانبرداری اور اطاعت میں فناکسی پاداش یا اجر کی بنا اور امید پر نہیں ہے بلکہ وہ ا اپنے وجود کو ایسی چیز سمجھتا ہے کہ وہ حقیقت میں خدا تعالیٰ ہی کی شناخت اُس کی محبت اور اطاعت کے لیے بنائی گئی ہے اور کوئی غرض اور مقصد اُس کا ہے ہی نہیں اس لیے وہ اپنی خدا داد قوتوں کو جب ان اغراض اور مقاصد میں صرف کرتا ہے تو اس کو اپنے محبوب حقیقی ہی کا چہرہ نظر آتا ہے بہشت و دوزخ پر اس کی اصلاً نظر نہیں ہوتی میں کہتا ہوں کہ اگر مجھے اس امر کا یقین دلا دیا جاوے کہ خدا تعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزادی جاوے گی تو میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلاؤں کو ایک لذت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برداشت کرنے کو تیار ہے اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اور دکھ کی صورت میں دلا یا جاوے کبھی خدا کی اطاعت اور فرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لا انتہا موت سے بڑھ کر اور دکھوں اور مصائب کا مجموعہ قرار دیتی ہے۔ جیسے اگر کوئی بادشاہ عام اعلان کرائے کہ اگر کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ دے گی تو بادشاہ اس سے خوش ہو کر انعام دے گا تو ایک ماں کبھی گوارا نہیں کر سکتی کہ وہ اس انعام کی خواہش اور لالچ میں اپنے بچے کو ہلاک کرے۔ اسی طرح ایک سچا مسلمان خدا کے حکم سے باہر ہونا اپنے لیے ہلاکت کا موجب سمجھتا ہے خواہ اس کو اس نافرمانی میں کتنی ہی آسائش اور آرام کا وعدہ دیا جاوے۔ پس حقیقی مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس قسم کی فطرت حاصل کی جاوے کہ خدا تعالیٰ کی محبت اور اطاعت کسی جزا اور سزا کے خوف اور امید کی بنا پر نہ ہو بلکہ فطرت کا طبعی خاصہ اور جزو ہو کر ہو پھر وہ محبت بجائے خود اس کے لیے ایک بہشت پیدا کر دیتی ہے اور حقیقی بہشت یہی ہے کوئی آدمی