ملفوظات (جلد 2) — Page 518
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۱۸ جلد دوم بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس راہ کو اختیار نہیں کرتا ہے۔ اس لیے میں تم کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اسی راہ سے داخل ہونے کی تعلیم دیتا ہوں کیونکہ بہشت کی حقیقی راہ یہی ہے۔ ہے وہ دین مہدی کا زمانہ ۔ ایک عظیم الشان جمعہ خدا تعالی نے جو تمام نمت کی ہے وہ یہی دین ہے جس کا نام اسلام رکھا ہے ۔ پھر نعمت میں جمعہ کا دن بھی ہے جس روز اتمام نعمت ہوا ۔ یہ اس کی طرف اشارہ تھا کہ پھر اتمام نعمت جو لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُله (الصف: ۱۰) کی صورت میں ہو گا وہ بھی ایک عظیم الشان جمعہ ہوگا۔ وہ جمعہ اب آ گیا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے وہ جمعہ مسیح موعود کے ساتھ مخصوص رکھا ہے اس لیے کہ اتمام نعمت کی صورتیں دراصل دو ہیں ۔ اول تکمیل ہدایت، دوم تکمیل اشاعت ہدایت ۔ اب تم غور کر کے دیکھو تکمیل ہدایت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کامل طور پر ہو چکی لیکن اللہ تعالیٰ نے مقدر کیا تھا کہ تکمیل اشاعت ہدایت کا زمانہ دو سر از ما نہ ہو جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بروزی رنگ میں ظہور فرماویں اور وہ زمانہ مسیح موعود اور مہدی کا زمانہ ہے۔ یہی وجہ کہ لِيُظهِرَهُ عَلَى الدِّينِ محله (الصف: ۱۰) اس شان میں فرمایا گیا ہے۔ تمام مفسرین نے بالا تفاق اس امر کو تسلیم کر لیا ہے کہ یہ آیت مسیح موعود کے زمانہ سے متعلق ہے۔ در حقیقت اظہار دین اسی وقت ہو سکتا ہے جبکہ گل مذاہب میدان میں نکل آویں اور اشاعت مذہب کے ہر قسم کے مفید ذریعے پیدا ہو جائیں اور وہ زمانہ خدا کے فضل سے آگیا ہے۔ چنانچہ اس وقت پریس کی طاقت سے کتابوں کی اشاعت اور طبع میں جو جو سہولتیں میسر آئی ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ ڈاک خانوں کے ذریعہ سے کل دنیا میں تبلیغ ہو سکتی ہے۔ اخباروں کے ذریعہ سے تمام دنیا کے حالات پر اطلاع ملتی ہے۔ ریلوں کے ذریعہ سفر آسان کر دیئے گئے ہیں۔ غرض جس قدر آئے دن نئی ایجادیں ہوتی جاتی ہیں اسی قدر عظمت کے ساتھ مسیح موعود کے زمانہ کی تصدیق ہوتی جاتی ہے اور اظہار دین کی صورتیں نکلتی آتی ہیں۔ اس لیے یہ وقت وہی وقت ہے جس کی پیشگوئی اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُللہ کہہ کر فرمائی تھی۔ یہ وہی زمانہ ہے جو الْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ( المائدة : (۴) کی شان کو بلند کرنے والا اور ہے۔