ملفوظات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 516 of 638

ملفوظات (جلد 2) — Page 516

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۵۱۶ جلد دوم نہیں کر سکتا۔ بغیر اس کے دلائل ملتے ہی نہیں اور طرز بیان نہیں دیا جاتا اور یہ بھی خدا کا خاص فضل ہوتا ہے کہ اس طرز بیان سے نیکی کی قوت رکھنے والے اُس شخص کو جو خدا کی قوت اور طاقت پا کر روح القدس سے بھر کر بولتا ہے شناخت کر لیتے ہیں ۔ پس تم پر یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ اس نے تمہیں یہ قوت عطا کی اور شناخت کی آنکھ دی ۔ اگر وہ یہ فضل نہ کرتا تو جیسے اور لوگ پردوں میں ہیں اور گالیاں دیتے ہیں تم بھی اُن میں ہی ہوتے۔ جس چیز نے تم کو کھینچا ہے وہ محض خدا کا فضل ہے جیسے میاں عبد الحق ہی کو دیکھو کہ خدا کا فضل ان کی دستگیری نہ کرتا تو یہ کیونکر اس عیش کی جگہ سے نکل سکتے تھے خصوصاً ایسی حالت میں کہ ان کے پاس کئی ناصح بھی جمع ہوئے اور اُنہوں نے منع بھی کیا قادیان مت جاؤ۔ بلکہ ایک نے گالی بھی دی حالانکہ گالی دینا ان کے مذہب میں منع ہے اور عام طور پر تہذیب اور شائستگی کے بھی خلاف ہے لیکن ان تمام باتوں پر خدا کا فضل غالب آگیا اور اُن کو کھینچ لایا ۔ اُن کو بدی کے اسباب ہی میسر نہ آئے ورنہ اگر یہ بیوی کر لیتے تو پھر ابتلا پیش آجاتا مگر خدا نے ہر طرح سے بچایا خدا کا فضل مستحدث نہیں ہوتا۔ جس پر وہ اپنا کرم کرتا ہے اُسے ہر طرح سے بچالیتا ہے۔ یہ خیال مت کرو کہ ہم مسلمان ہیں۔ اسلام بڑی نعمت ہے اس کی قدر کرو اور شکر کرو۔ اس کے اندر فلاسفی ہے جو زبان سے کہہ دینے سے حاصل نہیں ہوتی ۔ اسلام کی حقیقت اسلام اللہ تعال کے تمام تصرفات کے بچے آجانے کانام ہے اور اس کا خلاصہ خدا کی سچی اور کامل اطاعت ہے۔ مسلمان وہ ہے جو اپنا سارا وجود خدا تعالیٰ کے حضور رکھ دیتا ہے بدوں کسی امید پاداش کے مَنْ أَسْلَمَ وَجْهَهُ لِلَّهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ ( البقرة : ۱۱۳) یعنی مسلمان وہ ہے جو اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی رضا کے حاصل کرنے کے لیے وقف کر دے اور سپرد کردے اور اعتقادی اور عملی طور پر اس کا مقصود اور غرض اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اور خوشنودی ہو اور تمام نیکیاں اور اعمال حسنہ جو اس سے صادر ہوں وہ بمشقت اور مشکل کی راہ سے نہ ہوں بلکہ ان میں ایک لذت اور حلاوت کی کشش ہو جو ہر قسم کی تکلیف کو راحت سے تبدیل کر دے۔ الحکم جلد ۶ نمبر ۱۷ مورخه ۱۰ رمئی ۱۹۰۲ ء صفحه ۶،۵